Table of Contents
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایران سے متعلق تمام قابلِ اطلاق پابندیوں کی پاسداری کرتا ہے۔ پاکستان یہ پالیسی بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے مطابق جاری رکھے گا۔
امریکی پابندیوں سے متعلق پاکستان کا مؤقف
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ذمہ دار عالمی رکن کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ ملک تمام قابلِ اطلاق پابندیوں کے نظام کی پاسداری کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران سے متعلق ان کے سابق ریمارکس سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ ان ریمارکس کی وضاحت ضروری ہے۔
پاکستان نے کثیرالجہتی نظام سے وابستگی کا بھی اعادہ کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کی حمایت کرتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں پاکستان کا کردار
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے۔ اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت بھی طے ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق تنازع کا پرامن حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان تمام متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ اسلام آباد دونوں جانب تحمل کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
امریکا کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ دیرینہ شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان واشنگٹن کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان بین الاقوامی قوانین اور طے شدہ عالمی طریقہ کار کی پابندی جاری رکھے گا۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
ان کے مطابق دونوں فریقوں کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے تعمیری رابطے جاری رکھے گا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے پرامن حل کو اہم سمجھتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے برقرار
افغانستان سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے برقرار رہنے کی بھی تصدیق کی۔ افغانستان کے حوالے سے دیگر تفصیلات کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی۔
