Table of Contents
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے براہِ راست رابطے میں ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ پسِ پردہ رابطے بھی کر رہا ہے۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ اسے سفید جھنڈا لہرانا ہوگا۔
امریکی صدر نے یہ گفتگو پیر کو فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کی۔
ایران کے جوہری پروگرام پر ٹرمپ کا موقف
ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے اس مؤقف کو اپنی بنیادی ترجیح قرار دیا۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بھی یہی بات دہرائی۔
ان کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا واشنگٹن کا مستقل مقصد ہے۔
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کی سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔
امریکا ایران مفاہمتی یادداشت خطرے میں
رواں سال جون میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی۔
اس یادداشت کی مقررہ مدت اب اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس کا مقصد بڑے معاملات پر وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
ان معاملات میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل تھا۔ امریکی پابندیاں اور آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت بھی اہم موضوعات تھے۔
تاہم حالیہ کشیدگی نے اس مفاہمت کا مستقبل غیر یقینی بنا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز پر کشیدگی میں اضافہ
ایران نے امریکی اقدامات کے خلاف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود کر دی ہے۔
اس کے جواب میں امریکا نے بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کر دیا۔ اس صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر دباؤ جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت پوکر کھیلنے میں ماہر ہے، مگر اب مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
ایران کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا
ایران کو جنگ اور پابندیوں کے باعث شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔
ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے ملک کو درپیش معاشی جنگ کا بھی ذکر کیا۔ عارف نے اداروں سے مؤثر منصوبہ بندی کی اپیل کی۔
امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ مقامی کرنسی کی قدر میں بھی کمی آئی ہے۔
اس صورتحال نے مہنگائی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
امریکا نے اپنے مطالبات محدود کر دیے
سی این این کے مطابق واشنگٹن اب اپنے بعض ابتدائی مطالبات کم کر رہا ہے۔
جنگ کے آغاز میں امریکی انتظامیہ نے ایران سے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت کی تبدیلی بھی امریکی مطالبات میں شامل تھی۔
اس کے علاوہ واشنگٹن ایران سے جوہری پروگرام ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ ایران سے علاقائی اتحادیوں کی حمایت روکنے کا بھی کہا گیا تھا۔
تاہم جون کی مفاہمتی یادداشت میں ان مطالبات میں سے زیادہ تر شامل نہیں تھے۔
جوہری مواد پر امریکی موقف میں تبدیلی
ٹرمپ نے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اپنے مؤقف میں بھی تبدیلی کے اشارے دیے ہیں۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جوہری مواد بہت گہرائی میں موجود ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ان مواد کی فوری بازیابی اب بنیادی شرط نہیں رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ خلا سے نگرانی کے ذریعے ایران کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
انہوں نے ایک اور بیان میں کہا کہ ایران عملاً جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو چکا ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کم
آبنائے ہرمز اب بھی امریکا اور ایران کے درمیان بڑا تنازع ہے۔
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کو صرف پانچ مال بردار جہاز آبنائے سے گزرے۔
اتوار کو ایک بھی مال بردار جہاز وہاں سے نہیں گزرا۔ اس کے برعکس گزشتہ ہفتے کے آغاز میں 31 جہاز آبنائے سے گزرے تھے۔
بحری آمدورفت میں یہ کمی عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی اہم ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل اور گیس کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
