Table of Contents
نابلس/غزہ: مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی آبادکار حضرت یوسفؑ کے مزار پر پہنچ گئے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے انہیں سکیورٹی فراہم کی۔
فوجی گاڑیوں نے نابلس کے مشرقی علاقے میں کارروائی کی۔ اس دوران مزار کے اطراف رہنے والے فلسطینی خاندانوں کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ کئی گھروں کو عارضی فوجی چوکیوں میں تبدیل کیا گیا۔
گھروں کی چھتوں پر اسرائیلی اسنائپرز تعینات
فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے متعدد گھروں کی چھتوں پر اسنائپرز تعینات کیے۔ علاقے کی کئی سڑکیں بھی بند کردی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق سیکڑوں آبادکار بسوں کے ذریعے مشرقی نابلس پہنچے۔ انہوں نے حضرت یوسفؑ کے مزار پر مذہبی رسومات ادا کیں۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس سے قبل مشرقی نابلس کی مرکزی سبزی منڈی میں بھی کارروائی کی۔ فلسطینی شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
مغربی کنارے میں کشیدگی برقرار
حضرت یوسفؑ کے مزار کا علاقہ طویل عرصے سے کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔ اسرائیلی آبادکار وقفے وقفے سے اس مقام پر مذہبی رسومات کے لیے پہنچتے ہیں۔
رواں ہفتے نابلس کے قریب دیگر مقامات پر بھی اسرائیلی آبادکاروں کی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے اوارتا گاؤں میں بھی ایک تاریخی مزار کے اطراف رسومات ادا کیں۔
غزہ میں ملبے سے 105 فلسطینیوں کی باقیات برآمد
دوسری جانب غزہ میں امدادی اور سول ڈیفنس ٹیموں نے تباہ شدہ رہائشی عمارتوں کے ملبے سے 105 فلسطینیوں کی لاشیں اور باقیات برآمد کی ہیں۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق لاشیں غزہ سٹی کے الیرموک علاقے میں تباہ شدہ رہائشی عمارتوں کے ملبے سے نکالی گئیں۔ تلاش کا عمل کئی دن تک جاری رہا۔
لاشیں نکالنے کے بعد متاثرہ خاندانوں اور شہریوں نے اجتماعی نماز جنازہ ادا کی۔ بعد ازاں میتوں کو شہدا کے قبرستان منتقل کیا گیا۔
متاثرین کی تدفین کردی گئی
رپورٹس کے مطابق میتوں کو کفن میں لپیٹا گیا۔ ان پر فلسطینی پرچم بھی رکھے گئے۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔
غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے انسانی باقیات کی برآمد کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی علاقوں میں تلاش اور ملبہ ہٹانے کا عمل محدود وسائل کے ساتھ جاری ہے۔
