Table of Contents
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کے نئے رولز پبلک کردیئے گئے ہیں۔ ان رولز میں توہینِ عدالت اور نظرِ ثانی کی درخواستوں سے متعلق اہم طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
رولز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت توہینِ عدالت کا ازخود نوٹس لے سکتی ہے۔ کسی بھی شخص کی درخواست پر بھی کارروائی شروع کی جاسکے گی۔
بدنیتی پر مبنی نظرِ ثانی پر کارروائی
نئے رولز میں بدنیتی پر مبنی نظرِ ثانی کی درخواستوں سے متعلق بھی واضح ہدایات دی گئی ہیں۔
ایسی درخواست دائر کرنے والے وکیل کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ درخواست دائر کرنے سے پہلے 50 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرانا ہوگا۔
اگر درخواست خارج ہوجائے تو زرِ ضمانت ضبط کیا جاسکتا ہے۔ بے بنیاد درخواست قرار دیے جانے پر بھی یہی کارروائی ہوگی۔
نظرِ ثانی درخواست اسی بینچ کے سامنے ہوگی
رولز کے مطابق نظرِ ثانی کی درخواست حتی الامکان اسی بینچ کے سامنے مقرر ہوگی۔
اگر اصل بینچ کا کوئی جج دستیاب نہ ہو تو نیا بینچ تشکیل دیا جائے گا۔ اس میں اصل بینچ کے دستیاب ججز شامل ہوں گے۔
اس طریقہ کار کا مقصد نظرِ ثانی کی درخواستوں کی سماعت کو واضح بنانا ہے۔ درخواست کی سماعت مقررہ عدالتی قواعد کے مطابق ہوگی۔
مزید نظرِ ثانی کی درخواست قبول نہیں ہوگی
نئے رولز میں مزید نظرِ ثانی کے حوالے سے بھی واضح حکم دیا گیا ہے۔
نظرِ ثانی کے فیصلے کے خلاف دوسری نظرِ ثانی کی درخواست دائر نہیں کی جاسکے گی۔
ایسی درخواست رجسٹری میں بھی قبول نہیں کی جائے گی۔
وفاقی آئینی عدالت کے رولز میں مقدمات کی سماعت اور درخواستوں کے طریقہ کار سے متعلق دیگر ضوابط بھی شامل ہیں۔ عدالت نے اس سے قبل اپنی مستقل قواعد سازی تک سپریم کورٹ رولز 2025 کو اختیار کیا تھا۔
