تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضاعی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت اب مؤثر نہیں رہی کیونکہ ان کے بقول مخالف فریق نے اس کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہیم رضاعی نے کہا کہ موجودہ حالات میں دشمن باضابطہ طور پر جنگ میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث پہلے سے طے شدہ مفاہمتی انتظامات اپنی حیثیت کھو چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مخالف فریق نے مفاہمتی یادداشت کی تمام شرائط کو نظر انداز کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایرانی پارلیمنٹ میں گزشتہ رات آبنائے ہرمز کی سلامتی اور پائیدار ترقی سے متعلق اسٹریٹیجک ایکشن پلان پیش کیا گیا، جسے پارلیمنٹ نے منظور کر لیا ہے۔
ابراہیم رضاعی کے مطابق اس منصوبے کا مقصد آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانا اور قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی، بحری آمدورفت اور توانائی کی عالمی ترسیل کے حوالے سے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
