ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی حملوں کے بعد قوم کے نام خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے ایرانی عوام کے حوصلے، صبر اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایران ہمیشہ سے استعمار اور بیرونی دباؤ کے خلاف مزاحمت کی علامت رہا ہے اور آج بھی وہاں کے عوام اسی جذبے کے ساتھ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں صدر پزشکیان نے کہا کہ دشمن کی حالیہ جارحیت کے باوجود جنوبی ایران کے عوام نے عزت، وقار اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان وفادار اور ثابت قدم شہریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی قربانیوں اور حوصلے پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ جنوبی ایران کی سرزمین ماضی میں بھی نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت رہی ہے اور موجودہ حالات میں بھی عوام اسی تاریخی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے قومی وحدت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پُرعزم ہیں۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ جنگ یا دھمکیوں کے ذریعے نہیں کھلے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا کو بین الاقوامی قوانین اور ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔
ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز کے انتظام یا وہاں کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے ایک معاہدے کے تحت عارضی طور پر 60 روز کے لیے ٹول فری آمدورفت کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے مبینہ طور پر اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی راستہ بنانے کی کوشش کی، جسے ایران نے ناقابل قبول قرار دیا۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم کے مطابق آبنائے ہرمز میں معمول کی آمدورفت کی بحالی کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکا ایران کے قانونی حقوق اور خودمختاری کا احترام کرے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے۔
