لندن/ملبورن: لندن اور ملبورن میں پاکستانی اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے صومالی قزاقوں کی قید میں موجود 11 پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومتِ پاکستان سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں بھی پاکستانی کمیونٹی اور سماجی کارکنوں نے مظاہرہ کیا۔ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مغوی پاکستانی عملے کی بحفاظت وطن واپسی کے مطالبات درج تھے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے، اس لیے ان کی رہائی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب لندن میں مظاہرین نے پاکستانی ہائی کمشنر کے باہر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکومت اور متعلقہ ادارے مغوی عملے کی محفوظ واپسی کے لیے مزید مؤثر سفارتی اور قانونی کوششیں کریں۔
احتجاج کے دوران مظاہرین کے ایک وفد نے پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام سے ملاقات بھی کی اور انہیں ایک یادداشت پیش کی جس میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
یاد رہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اغوا شدہ جہاز اس وقت Puntland کے ساحل کے قریب لنگر انداز ہے اور پاکستانی حکام مغوی عملے کی رہائی کے لیے مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے میں ہیں۔
مظاہرین نے عالمی برادری، بحری سلامتی کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں کردار ادا کریں تاکہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی ممکن بنائی جا سکے۔
