ایشین گیمز 2026 میں پاکستان کی باصلاحیت ریسلر عائشہ بلوچ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریسلنگ کے فائنل مقابلے میں بھارتی حریف کو شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا اور ملک کے لیے ایک بڑا اعزاز حاصل کیا۔
عائشہ بلوچ نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران غیر معمولی اعتماد، بہترین تکنیکی مہارت اور عمدہ داؤ پیچ کا مظاہرہ کیا۔ ان کی مسلسل شاندار کارکردگی کے باعث ایشیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی حریف کھلاڑی ان کے سامنے ٹھہر نہ سکیں۔
فائنل مقابلے میں پاکستانی ریسلر کی تکنیکی برتری واضح طور پر نمایاں رہی، جبکہ بھارتی حریف ان کے جارحانہ اور مؤثر کھیل کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی۔ فیصلہ کن کامیابی کے بعد عائشہ بلوچ نے میدان میں سجدۂ شکر ادا کیا، جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔
میڈل تقریب کے دوران سبز ہلالی پرچم بلند کرتے ہوئے عائشہ بلوچ نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ ان کی اس تاریخی کامیابی پر ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جبکہ خصوصاً بلوچستان میں عوام نے اس کامیابی کو بھرپور انداز میں سراہا۔
سیاسی، سماجی اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات نے عائشہ بلوچ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے پاکستانی خواتین کے لیے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ فتح نہ صرف پاکستان کے کھیلوں کے میدان میں ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ نوجوان لڑکیوں، خصوصاً بلوچستان کی بیٹیوں کے لیے عزم، محنت اور کامیابی کی ایک روشن مثال بھی ہے۔
عائشہ بلوچ کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی خواتین عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں۔
