واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اسرائیل کی جانب سے امریکی حکام اور پالیسی سازی کے عمل سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی مبینہ کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسدادِ جاسوسی خطرے کی سطح کو بلند ترین درجے تک بڑھا دیا ہے۔
امریکی اور سابق امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون کی انٹیلی جنس شاخ، ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) نے حالیہ ہفتوں میں ایک نئی داخلی تشخیص جاری کی ہے جس میں اسرائیل کی انٹیلی جنس سرگرمیوں اور تکنیکی ذرائع سے معلومات جمع کرنے کی صلاحیت کو انتہائی حساس اور اہم خطرے کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس تشخیص میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خصوصاً ایران سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی مشوروں، پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی آئی اے کی تیار کردہ سات صفحات پر مشتمل دستاویز میں اسرائیل کی جاسوسی اور نگرانی کی صلاحیتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور متعدد ایسے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے امریکی حکام کی تشویش میں اضافہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا حساس حکومتی معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جدید تکنیکی ذرائع یا دیگر انٹیلی جنس طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن میں موجود Israel کے سفارت خانے نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل امریکی سرکاری اداروں یا امریکی حکام کے خلاف کسی قسم کی جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے۔
اسرائیلی سفارت خانے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مضبوط ہیں اور ایسے الزامات حقائق کے منافی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، خصوصاً Iran سے متعلق امریکی پالیسیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر واشنگٹن میں حساس مشاورت جاری ہے، جس کے باعث انٹیلی جنس اور سیکیورٹی معاملات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
