امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ ترین معیار کے جوہری معائنوں کی اجازت دینے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے، جسے انہوں نے جوہری شفافیت کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اگر تہران جوہری تنصیبات کے جامع معائنے قبول نہ کرتا تو دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کو آگے بڑھانا ممکن نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے اہم رعایتوں کے بعد آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر بھی اتفاق ہوا ہے اور اس اہم بحری راستے پر عائد ناکہ بندی کو مزید جاری نہیں رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی بحریہ کے تمام جہاز اپنی موجودہ پوزیشنوں پر برقرار رہیں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ ناکہ بندی بحال کی جا سکے، تاہم موجودہ صورتحال میں ایسے کسی اقدام کا امکان انتہائی کم دکھائی دیتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے مالی وسائل ایک خصوصی ایسکرو اکاؤنٹ میں رکھے جائیں گے اور ان رقوم کا انتظام امریکی نگرانی میں ہوگا۔ ان کے مطابق یہ فنڈز صرف انسانی ضروریات، خصوصاً خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے لیے مکئی، گندم اور سویا بین جیسی زرعی مصنوعات امریکی کسانوں سے خریدی جائیں گی، کیونکہ ایران اس وقت خوراک اور ادویات کی شدید ضرورت اور انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی مدد میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور موجودہ مذاکرات امریکی قومی مفادات کے مطابق مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے بقول دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع معاہدے کی بنیاد مضبوط ہو رہی ہے اور مذاکرات میں پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔
