Table of Contents
تہران، : یمن کی انصار اللہ تحریک کے سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرح نے پاکستان، ترکیہ اور دیگر اسلامی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کے خلاف کسی نئے اتحاد کی تشکیل یا اسے سیاسی حمایت فراہم کرنے کے بجائے یمن کے خلاف مبینہ جارحیت اور ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے سفارتی کردار ادا کریں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ISNA کے مطابق، الفرح نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب بعض علاقائی ممالک کے ممکنہ سیاسی اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں۔
اسلامی ممالک سے سفارتی کردار ادا کرنے کا مطالبہ
محمد الفرح نے کہا کہ اسلامی ممالک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی مسلم ملک کے خلاف جارحیت، ناکہ بندی یا خودمختاری کی خلاف ورزی کی صورت میں اسے سیاسی تحفظ فراہم کرنے کے بجائے جارح فریق پر دباؤ ڈالیں۔
ان کے مطابق نئے اتحاد یمن کو اس کے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔
الفرح نے کہا:"اسلامی اقوام سے جو توقع کی جاتی ہے وہ یہ نہیں کہ جارحین کو اپنی پالیسیوں کے نتائج سے بچانے کے لیے اتحاد قائم کیا جائے، بلکہ ان پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ دشمنانہ کارروائیوں کو روکیں۔”
یمن مخالف اتحاد کے خلاف انتباہ
انصار اللہ کے عہدیدار نے سمندری اور اقتصادی ناکہ بندیوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف بننے والے کسی بھی نئے اتحاد یا بیرونی دباؤ سے انصار اللہ اپنے موجودہ راستے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
الفرح نے بالخصوص پاکستان، ترکیہ اور دیگر اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جسے یمن کے خلاف فوجی کارروائی یا ناکہ بندی کے لیے سیاسی جواز یا حمایت کے طور پر دیکھا جا سکے۔
سپریم پولیٹیکل کونسل کی بھی سخت وارننگ
دوسری جانب یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے صدر مہدی المشاط نے بھی یمن کے خلاف جاری کارروائیوں میں کسی ملک کی شمولیت کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
یمنی میڈیا ادارے المسیرہ کے مطابق المشاط نے کہا کہ یمن کے خلاف جاری ناکہ بندی یا جارحیت میں حصہ لینے والی کسی بھی ریاست کو، چاہے وہ کوئی بھی جواز پیش کرے، یمنی قانون کے تحت جارح تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے سعودی عرب اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو بھی خبردار کیا کہ یمن کے خلاف کسی مہم یا ناکہ بندی میں مزید شمولیت کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
جنگ کے بجائے پرامن تعلقات کی پیشکش
مہدی المشاط نے سعودی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے سے یمن کے خلاف کسی بھی کارروائی کو طویل مدتی کامیابی نہیں مل سکتی۔
ان کے مطابق یمن اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان منصفانہ اور باعزت امن اور اچھے ہمسایہ تعلقات قائم کرنا جنگ جاری رکھنے کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند اور کم نقصان دہ راستہ ہے۔
انصار اللہ کے حالیہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یمن اور خطے میں سکیورٹی، بحری راستوں اور علاقائی اتحادوں سے متعلق صورتحال مسلسل حساس بنی ہوئی ہے۔
