Table of Contents
اسلام آباد: پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے کہا ہے کہ امن و سلامتی، خوشحالی اور عوام کو بااختیار بنانا آسیان کے مستقبل کے بنیادی ستون ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آسیان کے تین بنیادی ستون سیاسی و سلامتی، اقتصادی اور سماجی و ثقافتی تعاون ہیں۔
ان کے مطابق یہ تینوں شعبے پاکستان اور آسیان کے بدلتے تعلقات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
فلپائن کے سفیر نے ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے خصوصی سیمینار میں کیا۔
سیمینار کا موضوع ’’پاکستان اور آسیان: ہمارا مستقبل مل کر تشکیل دینا‘‘ تھا۔
آسیان ڈے کی 59ویں سالگرہ پر خصوصی سیمینار
یہ تقریب انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد نے وزارت خارجہ اور آسیان کمیٹی کے تعاون سے منعقد کی۔
تقریب کا انعقاد آسیان ڈے کی 59ویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا۔
ڈاکٹر ایمانوئل فرنانڈیز نے کہا کہ پاکستان اور آسیان کے درمیان قریبی روابط علاقائی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باہمی مفادات پر مبنی تعاون کے نئے راستے بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان اور آسیان کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور
آسیان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے خصوصی ویڈیو پیغام کے ذریعے سیمینار سے خطاب کیا۔
انہوں نے پاکستان اور آسیان کے تعلقات کی مضبوط بنیاد کو اجاگر کیا۔
انہوں نے مستقبل میں تعاون کے لیے مکالمے اور اقتصادی تعاون کو اہم قرار دیا۔
تکنیکی تعاون، بہتر روابط اور عوامی ترقی کو بھی اہم شعبوں میں شامل کیا گیا۔
تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع
آسیان ممالک کے نمائندگان نے پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی حمایت کی۔
انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
سیاحت، ڈیجیٹل معیشت اور سائبر سکیورٹی بھی اہم شعبوں میں شامل ہیں۔
زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
عوامی سطح پر تبادلوں اور باہمی روابط کو فروغ دینے کی حمایت بھی کی گئی۔
پاکستان کی مکمل مکالماتی شراکت داری کی خواہش
آسیان میں پاکستان کے سفیر زاہد حفیظ چوہدری نے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آسیان کے ساتھ اپنے روابط مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
انہوں نے مکمل مکالماتی شراکت داری کے حصول کی خواہش بھی ظاہر کی۔
وزارت خارجہ کے ایسٹ ایشیا اینڈ پیسیفک ڈویژن کی ڈپٹی ڈائریکٹر حسیں فاطمہ نے بھی خطاب کیا۔
انہوں نے ادارہ جاتی تعاون میں مسلسل توسیع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
ان کے مطابق موجودہ تعاون کے فریم ورک کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
اقتصادی انضمام سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق نے بھی خطاب کیا۔
انہوں نے آسیان کو علاقائی تعاون کا اہم نمونہ قرار دیا۔
انہوں نے پاکستان اور آسیان کے درمیان زیادہ بامعنی تعلقات کی ضرورت پر زور دیا۔
معین الحق نے علاقائی اقتصادی انضمام سے پیدا ہونے والے مواقع کی جانب بھی توجہ دلائی۔
انہوں نے علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری سے پیدا ہونے والے امکانات کا ذکر کیا۔
ان کے مطابق پاکستان کی کاروباری برادری کو ان مواقع سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
تھنک ٹینکس اور کاروباری شعبے کے درمیان روابط
سفیر معین الحق نے کاروباری برادری کے ساتھ خصوصی روابط قائم کرنے کی تجویز دی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے نئے اقتصادی مواقع کے بارے میں آگاہی بڑھے گی۔
اس عمل سے پاکستان اور آسیان کے درمیان مضبوط کاروباری روابط بھی قائم ہو سکتے ہیں۔
مرکز برائے پالیسی اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طلعت شبیر نے بھی خطاب کیا۔
انہوں نے مسلسل رابطے اور باہمی افہام و تفہیم بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مستقبل پر مرکوز شراکت داری کی ضرورت
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے اختتامی کلمات ادا کیے۔
انہوں نے پاکستان اور آسیان کے درمیان وسیع اور گہری شراکت داری پر زور دیا۔
انہوں نے مستقبل پر مرکوز تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی بات کی۔
ان کے مطابق ادارہ جاتی، علمی، کاروباری اور تھنک ٹینک روابط اس شراکت داری کو تقویت دے سکتے ہیں۔
پاکستان اور آسیان نے تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا
سیمینار میں پاکستان اور آسیان کے تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
شرکا نے مسلسل مکالمے اور عملی تعاون کو اہم قرار دیا۔
بہتر علاقائی روابط کو بھی مستقبل کی شراکت داری کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔
تقریب میں آسیان کے رکن ممالک کے سربراہانِ مشن اور نمائندگان نے شرکت کی۔
تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد اور میڈیا نمائندگان بھی سیمینار میں شریک ہوئے۔
