واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے پکیکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) کو "شاید بہت جلد” نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری سینٹری فیوجز ایک زیرِ زمین افزودگی مرکز میں منتقل کر دیے ہیں۔
لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان اطلاعات کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ان کے بقول اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال امریکی حملوں کے بعد ایران کا جوہری مواد زیرِ زمین دب چکا ہے اور امریکہ ان مقامات کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے تاکہ تہران دوبارہ اس مواد کو حاصل نہ کر سکے۔
ٹرمپ نے کہا، "ہم اس علاقے کو شاید بہت جلد نشانہ بنائیں گے اور وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر وہ کسی نئی جوہری تنصیب کو فعال کرنے یا کسی مقام کو دوبارہ تیار کرنے کی کوشش کریں گے تو ہم اسے پوری طاقت سے نشانہ بنائیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران وہ ایران کے مختلف انفراسٹرکچر اور خاص طور پر پکیکس ماؤنٹین سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ابھی وہاں سے نہیں جا رہے۔ اگر ہم آج واپس بھی چلے جائیں تو ایران کو اپنی صلاحیتیں بحال کرنے میں 20 سے 25 سال لگ جائیں گے۔”
امریکی صدر نے ایرانی حکومت پر داخلی سطح پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہی ہے اور بچوں کو بھی بے رحمی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پکیکس ماؤنٹین نطنز کے قریب واقع ایک پہاڑی علاقہ ہے، جس کے بارے میں مغربی ذرائع میں یہ دعوے کیے جاتے رہے ہیں کہ ایران وہاں زیرِ زمین جوہری تنصیبات تیار کر رہا ہے، تاہم ایران ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

