Table of Contents
پاکستان اور کرغزستان نے اپنی دیرینہ دوستی کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کو فروغ دینے کی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
پاکستان-کرغزستان جوائنٹ بزنس کونسل کا افتتاحی اجلاس کرغز جمہوریہ کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے اہم نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے دوطرفہ اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کا جائزہ لیا۔
کاروباری تعاون کو عملی شکل دینے پر زور
اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی شریک چیئرمین اور صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ سمیت دیگر کاروباری رہنماؤں نے کی۔
پاکستان-کرغیز بزنس کونسل، ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین جبار رحیم خان بھی وفد میں شامل تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جبار رحیم خان نے کہا کہ جوائنٹ بزنس کونسل کو صرف رسمی فورم تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کونسل کو ایک فعال اور عملی ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق کونسل کی کامیابی کا اندازہ تجارت میں اضافے، نئی سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں سے ہونا چاہیے۔ روزگار کے نئے مواقع بھی اس کامیابی کا اہم پیمانہ ہوں گے۔
مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع
جبار رحیم خان نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کو ایک دوسرے کو اسٹریٹجک اقتصادی شراکت دار سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے دواسازی، ٹیکسٹائل اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
ان کے مطابق آئی ٹی، تعمیرات، کان کنی، توانائی اور سیاحت میں بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔
لاجسٹکس کے شعبے میں تعاون بڑھانے کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
تجارتی روابط بہتر بنانے کی تجاویز
جبار رحیم خان نے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں۔
انہوں نے بہتر سڑک اور ٹرانسپورٹ روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی تجویز بھی دی گئی۔
انہوں نے مؤثر بینکنگ اور ادائیگی کے نظام کو بھی دوطرفہ تجارت کے لیے ضروری قرار دیا۔
کاروباری افراد کے لیے ویزا سہولیات بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل تجارتی پلیٹ فارم اور قابل اعتماد لاجسٹکس نظام کی تجویز پیش کی گئی۔
مشترکہ سرمایہ کاری پلیٹ فارم کی تجویز
پاکستانی نمائندے نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان مسلسل روابط برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے لیے ایک خصوصی پلیٹ فارم قائم کرنے کی تجویز دی۔
اس کے ساتھ مختلف شعبوں کے لیے مخصوص کاروباری گروپس بنانے کی تجویز بھی سامنے آئی۔
جبار رحیم خان نے سالانہ پاکستان-کرغزستان بزنس سمٹ منعقد کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
نجی شعبے کے کردار پر اتفاق
ایف پی سی سی آئی کے وفد نے دونوں ممالک کی باہمی اقتصادی ترقی کے لیے نجی شعبے کے کردار کو اہم قرار دیا۔
وفد نے علاقائی روابط بڑھانے کے لیے کاروباری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
شرکا نے اس امید کا اظہار کیا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
