ہیوسٹن: امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے اعلان اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں برینٹ اور امریکی خام تیل دونوں کی قیمتیں 9 فیصد سے زائد بڑھ گئیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 7.29 ڈالر (9.59 فیصد) اضافے کے بعد 83.30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 6.73 ڈالر (9.42 فیصد) اضافے کے ساتھ 78.14 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں یہ اضافہ اپریل کے اوائل کے بعد ایک روز میں سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ یہ تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح بھی ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی بحریہ کی قیادت میں قائم جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے اعلان کیا ہے کہ امریکا 14 جولائی سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نیا سکیورٹی نظام متعارف کرایا جائے گا اور بعض جہازوں پر اضافی فیس بھی عائد کی جائے گی۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی بحری سرگرمیوں پر نئی پابندیوں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات نے عالمی توانائی کی فراہمی کے بارے میں تشویش میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئی ہیں۔
دوسری جانب ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں کسی بھی امریکی مداخلت کو قبول نہیں کرے گی اور بغیر اجازت کسی بھی کارروائی کی مزاحمت کی جائے گی۔
ادھر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) نے بھی بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی آبنائے پر یکطرفہ فیس یا ٹول کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسی پابندی یا لازمی فیس کی واضح قانونی بنیاد موجود نہیں۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا بھر میں یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈی اور قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاؤنووو کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل لے جانے والے ٹینکروں کی تعداد میں نمایاں کمی آتی ہے تو اس سے سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں خطرے کا عنصر برقرار رہے گا اور قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
