امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ "آج رات اور کل” ایران کو بھرپور نشانہ بنائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
قدامت پسند میزبان ہیو ہیوٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ "ہم آج رات انہیں بہت سخت ماریں گے اور کل بھی سخت حملے کریں گے، اور وہ اس کا کچھ نہیں کر سکتے۔ ان کے پاس بڑے دعوؤں کے سوا کچھ نہیں۔”
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MOU) کی اہمیت کو بھی کم کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک "امتحان” تھا اور اس کی زیادہ اہمیت نہیں تھی۔ ان کے بقول امریکہ ایسے فریق سے نمٹ رہا تھا جس نے معاہدے کی شرائط کا احترام نہیں کیا۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے ہی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی اور آبنائے ہرمز سے متعلق اس کے مؤقف کو نظر انداز کیا۔
ایرانی حکومت مخالف مظاہرین کے حوالے سے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ عوام کو سڑکوں پر آنے کا مشورہ نہیں دیں گے کیونکہ غیر مسلح مظاہرین حکومتی فورسز کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں سمجھا تھا کہ عوامی بغاوت آسانی سے کامیاب ہو سکتی ہے، اگرچہ ماضی میں وہ ایرانی عوام سے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کر چکے تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے نیتن یاہو سے اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض معاملات پر اختلاف ہوتا ہے، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطہ مضبوط ہے۔
ٹرمپ نے نیتن یاہو کو "جنگ کے وقت کا مؤثر وزیر اعظم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اسرائیل کو درپیش حالیہ چیلنجز سے نمٹنے میں نیتن یاہو نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
غزہ کی صورتحال سے متعلق گفتگو میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں میں "نمایاں پیش رفت” حاصل کی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر حماس پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
