کینبرا: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ آسٹریلیا کے موقع پر انسانی حقوق اور اقلیتی حقوق سے متعلق مختلف حلقوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بعض انسانی حقوق کے کارکنوں اور سکھ تنظیموں نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا۔
اطلاعات کے مطابق مودی کی آسٹریلیا آمد کے بعد ایک شخص نے ان کے ہوٹل کے باہر احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی، جبکہ مختلف مقامات پر مظاہرین نے ریلیاں بھی نکالیں۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں ایسے بینرز تھے جن پر بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید اور امیگریشن سے متعلق مطالبات درج تھے۔
رپورٹس کے مطابق بعض مظاہرین نے محکمۂ داخلہ کے دفتر سے مارچ کرتے ہوئے احتجاج کیا، جبکہ سکھ تنظیم سکھس فار جسٹس سے وابستہ ایک رہنما نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت میں اقلیتوں سے متعلق معاملات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور عالمی برادری کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔
دوسری جانب بھارتی حکومت متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ملک میں تمام شہریوں کو آئین کے مطابق برابر کے حقوق حاصل ہیں اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مودی کے دورۂ آسٹریلیا کے دوران ہونے والے یہ احتجاج بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے مباحث کا حصہ بنے، جہاں بھارت میں مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں۔
