خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جبکہ ایرانی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے بھی جہاز رانی سے وابستہ کمپنیوں اور جہازرانوں کو آئندہ نوٹس تک اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ایرانی ادارے کے ترجمان کے مطابق جاری فوجی کارروائیوں کے باعث آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہے اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی تک یہ بندش برقرار رہے گی۔ ترجمان نے جہاز رانی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ جاری کردہ ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب برطانوی میری ٹائم اتھارٹی نے بھی آبنائے ہرمز سے متعلق تازہ انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں سکیورٹی خطرات بدستور انتہائی سنگین ہیں۔ اتھارٹی نے بحری جہازوں کو احتیاط سے سفر کرنے اور ضرورت پڑنے پر پیشگی رابطے کے بعد متبادل جنوبی بحری راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنے والے تمام بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے اور بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ سینٹ کام کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں، جبکہ ایرانی اعلانات کو "بلاجواز جارحیت اور دھمکی آمیز رویہ” قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
