پنجاب بار کونسل نے مبینہ طور پر مشکوک ایل ایل بی ڈگریوں کے معاملے میں بڑا اقدام کرتے ہوئے پنجاب بھر کے 125 وکلا کے لائسنس معطل کر دیے ہیں اور انہیں شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
چیئرمین پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان کے مطابق متعلقہ وکلا کو آئندہ سماعت پر اپنی اصل ایل ایل بی ڈگری، اس کی تصدیق شدہ دستاویزات اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی وکیل مقررہ تاریخ پر پیش نہ ہوا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
فخر حیات اعوان نے بتایا کہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کی جانب سے موصول ہونے والی فہرست میں تقریباً 1,200 وکلا کی قانون کی ڈگریاں مشکوک قرار دی گئی ہیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ معلومات کی روشنی میں پنجاب بار کونسل نے ان ڈگریوں کی جانچ پڑتال اور قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب بار کونسل جعلی یا مشکوک تعلیمی اسناد رکھنے والے وکلا کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کسی بھی غیر قانونی یا غیر اخلاقی عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
چیئرمین پنجاب بار کونسل کا کہنا تھا کہ قانونی پیشے کے وقار، شفافیت اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ہر وکیل کی تعلیمی اسناد کی مکمل جانچ ضروری ہے، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قواعد و ضوابط کے مطابق مزید فیصلے کیے جائیں گے۔
