برطانیوی وزیر اعظم کئیر اسٹارمر کی کابینہ کے ایک اہم رکن کے استعفے کے بعد برطانیہ میں حکمران لیبر پارٹی کے اندر قیادت کی تبدیلی سے متعلق بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق Wes Streeting نے وزیر صحت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ Keir Starmer آئندہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی قیادت نہیں کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی خراب کارکردگی کے بعد وزیراعظم پر اندرونی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ کئی لیبر ارکان پارلیمنٹ نے یا تو اسٹارمر سے استعفیٰ دینے یا اپنی روانگی کا واضح ٹائم ٹیبل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے استعفے کے خط میں Wes Streeting نے کہا کہ پارٹی کو اب شخصیات کے بجائے نظریات پر مبنی کھلی بحث کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل کی قیادت کا تعین کیا جا سکے۔
اگرچہ انہوں نے فوری طور پر باضابطہ قیادت چیلنج شروع نہیں کیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں پارٹی کے اندر خاطر خواہ حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب Andy Burnham نے بھی پارلیمنٹ میں نشست حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جسے ممکنہ طور پر مستقبل میں قیادت کی دوڑ کی تیاری سمجھا جا رہا ہے۔
Keir Starmer نے اپنے ردعمل میں ویس اسٹریٹنگ کے استعفے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پارٹی اور حکومت پر لازم ہے کہ وہ ملک میں استحکام اور قومی اتحاد کیلئے کام جاری رکھیں۔
رپورٹ کے مطابق دو سال قبل بھاری اکثریت سے اقتدار میں آنے والی لیبر حکومت اب ایک نئے سیاسی بحران سے دوچار دکھائی دے رہی ہے جبکہ پارٹی کے اندر قیادت سے متعلق غیر یقینی صورتحال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

