Table of Contents
اسلام آباد، حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کا چوتھا دور بھی بغیر اتفاق رائے کے ختم ہوگیا۔
مذاکرات پنجاب ہاؤس میں ہوئے۔ جماعت اسلامی نے مذاکرات کے بعد 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔ تاہم، پٹرولیم لیوی اور عوامی ریلیف کے معاملے پر اہم اختلافات برقرار ہیں۔
عوامی مسائل کے لیے احتجاج جاری رہے گا
لیاقت بلوچ نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے عوامی مسائل کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے۔
ان کے مطابق، احتجاج ایک پرامن، آئینی اور جمہوری طریقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج ملک بھر میں جاری ہے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق، بدھ کو ملک کے 45 مقامات پر دھرنے اور احتجاج جاری تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسی احتجاج کے دباؤ کے نتیجے میں حکومت نے جماعت اسلامی کو مذاکرات کی پیشکش کی۔
حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی
نائب امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ حکومتی وفد منصورہ آیا تھا۔
وفد نے جماعت اسلامی کے ساتھ کھلے دل سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بدھ کو مذاکرات کا چوتھا دور تھا۔
لیاقت بلوچ کے مطابق، جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے عوامی ریلیف سے متعلق اپنا مؤقف واضح کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ کیا ہے۔
ان کے مطابق، جماعت اسلامی کے دباؤ سے اگر عوام کو حقیقی ریلیف ملتا ہے تو اسے خوش آئند سمجھا جائے گا۔
تاہم، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ طریقہ کار سے عوام کو مطلوبہ ریلیف نہیں ملے گا۔
ڈیزل استعمال کرنے والے شعبوں کو نظر انداز کرنے کا الزام
لیاقت بلوچ نے حکومت کی مجوزہ ریلیف اسکیم پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم میں ڈیزل پر انحصار کرنے والے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق، جماعت اسلامی کو کسی ریلیف اسکیم کا کریڈٹ لینے میں دلچسپی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل مقصد عوام کو حقیقی اور مؤثر ریلیف فراہم کرنا ہے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق، حکومتی وفد نے بھی تسلیم کیا کہ ریلیف کے کسی اقدام سے پہلے جماعت اسلامی سے مشاورت ہونی چاہیے تھی۔
20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان
لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنی اسلام آباد مارچ کی کال واپس نہیں لی۔
ان کے مطابق، حکومت نے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے مزید وقت مانگنے کا عندیہ دیا ہے۔
تاہم، جماعت اسلامی نے حکومت کو بتا دیا ہے کہ اسلام آباد مارچ کی کال حتمی ہے۔
لیاقت بلوچ نے یہ بھی واضح کیا کہ جماعت اسلامی نے حکومت سے آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کا مطالبہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ عوام کو حقیقی معاشی ریلیف فراہم کرنا ہے۔
آئی پی پیز کے معاہدوں کا حوالہ
لیاقت بلوچ نے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان آئی پی پیز سے متعلق سابقہ مذاکرات کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر بھی حکومت نے ابتدا میں جماعت اسلامی کے مؤقف سے اتفاق نہیں کیا تھا۔
ان کے مطابق، جماعت اسلامی نے مذاکرات میں اپنے دلائل پیش کیے۔
اس کے بعد حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں نظرثانی کی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیر توانائی اویس لغاری نے بھی ایک روز قبل تسلیم کیا کہ جماعت اسلامی کا مؤقف درست تھا۔
پالیسی ریٹ میں کمی کا مطالبہ
نائب امیر جماعت اسلامی نے پالیسی ریٹ میں کمی کا معاملہ بھی اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں 3 فیصد کمی سے ملک میں سیکڑوں ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مالیاتی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
لیاقت بلوچ نے ریفائنریز کے منافع کا معاملہ بھی مذاکرات میں اٹھایا۔
ان کے مطابق، پانچ ریفائنریز کو بغیر وجہ کے منافع دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے حکومت سے اس معاملے کی وضاحت اور پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
وفاقی وزارتوں اور صوبوں سے متعلق سوال
لیاقت بلوچ نے وفاقی حکومت کے انتظامی ڈھانچے پر بھی سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ جو وزارتیں صوبوں کو منتقل ہو چکی ہیں، وہ اب بھی وفاقی حکومت کے پاس کیوں موجود ہیں۔
ان کے مطابق، حکومت کو غیر ضروری اخراجات کم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی وسائل کے استعمال میں اصلاحات ضروری ہیں۔
حکومت پر عوام کو ریلیف سے محروم رکھنے کا الزام
لیاقت بلوچ نے حکومت پر سخت تنقید بھی کی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام کو ریلیف سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
ان کے بقول، عوامی ریلیف کے معاملے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے حکومت کی مجموعی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔
لیاقت بلوچ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق بھی الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام کرپشن کا دھندا بن گیا ہے۔
یہ الزامات جماعت اسلامی کے رہنما نے حکومت پر عائد کیے۔ حکومت کی جانب سے ان الزامات پر ردعمل اس بیان میں شامل نہیں تھا۔
بیڈ گورننس اور حکومتی اخراجات پر تنقید
لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک کا بنیادی مسئلہ بیڈ گورننس ہے۔
انہوں نے حکومت کے غیر ضروری اخراجات پر بھی اعتراض کیا۔
ان کے مطابق، حکومتی وسائل کو عوامی ریلیف اور بنیادی ضروریات پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مذاکرات میں اپنے تمام مطالبات اور تجاویز دلائل کے ساتھ پیش کیے ہیں۔
مذاکرات کے باوجود احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ
جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ حکومت نے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔
تاہم، ان کے مطابق، جماعت اسلامی نے اسلام آباد مارچ کے حوالے سے اپنا فیصلہ واضح کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور حکومت سے ریلیف کے اقدامات کا مطالبہ کرنا ہے۔
جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
