دوحہ نے ایک بار پھر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے، جسے خطے میں امن کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن التانی نے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور پرامن مذاکرات کی بحالی ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بات انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم محمد شہبازشریف اور پرتگال کے وزیر خارجہ پاؤلو رینگل کے ساتھ الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور استحکام کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطری وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی قیادت میں جاری سفارتی کوششیں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، اور قطر ان اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کو تعمیری سفارت کاری اختیار کرنی چاہیے تاکہ ایک ایسا جامع معاہدہ ممکن بنایا جا سکے جو طویل المدتی علاقائی امن و استحکام کو یقینی بنائے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر قطر کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد خطے میں امن، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اعلیٰ سطحی رابطے اور قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔
