Table of Contents
چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیمِ حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے آئندہ جمعۃ المبارک کو ملک بھر میں ’’یومِ مذمت‘‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے یہ اعلان مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے خلاف کیا ہے۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب میں مقدس مقامات پر حوثی باغیوں، ان کے حلیفوں اور مبینہ سرپرستوں کے حملوں کی بھی مذمت کی جائے گی۔
انہوں نے تمام مکاتبِ فکر کے علماء، مذہبی رہنماؤں، خطباء اور ائمہ سے اپیل کی کہ وہ اس موقع پر اپنا کردار ادا کریں۔
خطباتِ جمعہ میں حوثی حملوں کی مذمت کی اپیل
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ جمعۃ المبارک کو ملک بھر میں حوثی حملوں کے خلاف ’’یومِ مذمت‘‘ منایا جائے گا۔
انہوں نے علماء سے کہا کہ خطباتِ جمعہ میں مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی مذمت کی جائے۔
ان کے مطابق، سعودی عرب کے مقدس مقامات کے خلاف کسی بھی حملے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے ائمہ اور خطباء پر زور دیا کہ وہ حرمین شریفین کی حرمت، سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے امت مسلمہ کے متفقہ مؤقف کو اجاگر کریں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ اس معاملے میں تمام مکاتبِ فکر کو اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔
مکہ اور مدینہ مسلمانوں کے ایمان کا مرکز ہیں
طاہر اشرفی نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے ایمان اور عقیدے کا مرکز ہیں۔
انہوں نے ارضِ حرمین شریفین کو پوری امت مسلمہ کے لیے ریڈ لائن قرار دیا۔
ان کے مطابق، حرمین شریفین کی حرمت، سلامتی اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کے معاملے میں حساسیت رکھتے ہیں۔
طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ دو ارب مسلمان سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
حوثیوں کو ابرہہ اور اصحابِ فیل کے واقعے کا حوالہ
طاہر اشرفی نے حوثی حملوں کے حوالے سے اسلامی تاریخ کے معروف واقعہ اصحابِ فیل کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حبشی ابرہہ کے خلاف پرندوں کے جھنڈ بھیجے تھے۔
ان کے مطابق، ان پرندوں نے ابرہہ کے لشکر پر مٹی کے پتھر برسائے تھے۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کے لشکر کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حوثیوں کا انجام بھی اسی طرح ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اصحابِ فیل کے ساتھ معاملہ کیا تھا۔
یہ بیان دیتے ہوئے انہوں نے مکہ مکرمہ کی حرمت اور اس کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔
حوثیوں کے نام اور اقدامات پر طاہر اشرفی کی تنقید
طاہر اشرفی نے کہا کہ حوثی خود کو ’’انصار اللہ‘‘ کہتے ہیں۔
تاہم، ان کے بقول، ان کے اقدامات اس نام کے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انہوں نے حوثیوں کو ’’شیطان کے حامی‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے اقدامات پر سخت تنقید کی۔
طاہر اشرفی نے الزام عائد کیا کہ حوثی وہی کام کر رہے ہیں جو اسلام کے دشمن کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حوثی مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں۔
ان کے مطابق، حوثی مکہ مکرمہ کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔
طاہر اشرفی نے ان کارروائیوں کا موازنہ ابرہہ اور اصحابِ فیل کے واقعے سے کیا۔
سعودی عرب پر حملوں کو بیرونی سازش قرار دیا
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کے حوالے سے ایک وسیع تر الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے ان حملوں کو ایک بیرونی سازش کا حصہ قرار دیا۔
طاہر اشرفی کے مطابق، اس سازش کا مقصد اسلامی دنیا کو کمزور کرنا اور اسے مختلف حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد عرب اور اسلامی اقوام کے اتحاد کو نقصان پہنچانا بھی ہے۔
ان کے مطابق، اسلامی معاشروں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ اس مبینہ سازش کا مقصد اسلامی ممالک کے وسائل اور دولت پر قبضہ کرنا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں سے عرب اور اسلامی ممالک کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل سے مذاکرات پر سوالات
طاہر اشرفی نے حوثیوں کے ماضی کے نعروں اور موجودہ رابطوں کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل تک حوثی باغیوں، ان کے حلیفوں اور سرپرستوں کا نعرہ ’’مرگ بر امریکہ، مرگ بر اسرائیل‘‘ تھا۔
ان کے مطابق، اب وہی عناصر امریکہ اور اسرائیل سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو تعاون کی یقین دہانیاں بھی کرائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق، یہ صورتحال اہلِ اسلام کے لیے غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے۔
حرمین شریفین کے تحفظ پر امت مسلمہ کے اتحاد پر زور
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے حرمین شریفین کی حرمت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پوری امت مسلمہ کے لیے مقدس ترین مقامات ہیں۔
ان کے مطابق، ان مقامات کی سلامتی اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے علماء اور مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ عوام کو حرمین شریفین کی اہمیت سے آگاہ کریں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ جمعۃ المبارک کے خطبات میں اس حوالے سے امت مسلمہ کے متفقہ مؤقف کو سامنے لایا جائے۔
انہوں نے اہلِ اسلام سے بھی اپیل کی کہ وہ موجودہ صورتحال پر غور کریں۔
سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
طاہر اشرفی نے کہا کہ مسلمان سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے حرمین شریفین کی حرمت، سلامتی اور تحفظ کے لیے یکجہتی کے اظہار پر زور دیا۔
ان کے مطابق، مقدس مقامات کا تحفظ پوری امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری اور ترجیح ہے۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب اور اس کی قیادت کے ساتھ کھڑا ہونا حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے واضح مؤقف کا اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ جمعۃ المبارک کا ’’یومِ مذمت‘‘ اسی مؤقف کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جائے گا۔
