Table of Contents
نئی دہلی: اسماعیلیوں کے 50ویں موروثی امام اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے چیئرمین پرنس رحیم آغا خان پنجم بھارت پہنچ گئے ہیں۔ یہ 50ویں امام کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا بھارت کا پہلا دورہ ہے۔
پرنس رحیم آغا خان پنجم کی آمد پر بھارتی حکام نے ان کا استقبال کیا۔ ان کا دورہ 9 سے 15 ستمبر تک جاری رہے گا۔ یہ دورہ بھارتی نائب صدر سی پی رادھاکرشنن کی دعوت پر ہو رہا ہے۔
بھارتی قیادت سے اہم ملاقاتیں
دورانِ دورہ پرنس رحیم آغا خان پنجم نئی دہلی میں بھارتی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
ان کی بھارتی نائب صدر کے ساتھ ملاقات 10 ستمبر کو طے ہے۔ وہ صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے۔
اس کے علاوہ وہ وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے بھی ملاقات کریں گے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق ان ملاقاتوں میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے ساتھ سماجی ترقی، ورثے کے تحفظ اور دیگر کمیونٹی منصوبوں میں تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔
احمدآباد، ممبئی اور حیدرآباد کا دورہ
پرنس رحیم آغا خان پنجم اپنے دورے کے دوران نئی دہلی کے علاوہ احمدآباد، ممبئی اور حیدرآباد بھی جائیں گے۔
ان شہروں میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک مختلف ترقیاتی اور کمیونٹی منصوبوں سے وابستہ ہے۔ ان سرگرمیوں کے دوران وہ اسماعیلی جماعت کے افراد اور مقامی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے مطابق ان کا دورہ بھارت میں موجود اسماعیلی جماعت سے ملاقاتوں اور مختلف ترقیاتی شراکت داریوں کو آگے بڑھانے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔
بھارت سے تاریخی تعلق
پرنس رحیم آغا خان پنجم کے دورے کو آغا خان خاندان اور بھارت کے دیرینہ تعلقات کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک نے بھارت میں سماجی ترقی، تعلیم، صحت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں کام کیا ہے۔ نئی دہلی میں ہمایوں کے مقبرے کے تحفظ کا منصوبہ بھی اس تعاون کی نمایاں مثالوں میں شامل ہے۔
پرنس رحیم آغا خان پنجم نے فروری 2025 میں اپنے والد پرنس کریم آغا خان چہارم کے انتقال کے بعد اسماعیلیوں کے 50ویں موروثی امام کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ موجودہ دورہ اسی حیثیت سے بھارت کا ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
بھارت بھر میں استقبال کی تیاریاں
پرنس رحیم آغا خان پنجم کی آمد سے قبل بھارت میں اسماعیلی جماعت نے مختلف مقامات پر استقبال اور کمیونٹی پروگراموں کی تیاریاں کیں۔
دورے کے دوران جماعتی رضاکار انتظامی امور، نقل و حمل اور مختلف سرگرمیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔ اسماعیلی برادری میں بھی ان کے دورے کے حوالے سے خاص جوش و خروش پایا جاتا ہے۔
