Table of Contents
ڈلاس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ووٹرز کو 5 ہزار ڈالر دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
انہوں نے یہ تجویز ریپبلکن پارٹی کی انتخابی کامیابی سے مشروط کی ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کو ریپبلکنز کے پہلے وسط مدتی کنونشن سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ ریپبلکن کانگریس کا کنٹرول برقرار رکھیں تو ادائیگی کی جائے گی۔
صدر نے اس رقم کو ’’ٹرمپ ڈیویڈنڈ‘‘ کا نام دیا۔
تاہم اس منصوبے کی عملی تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہوئیں۔
یہ بھی واضح نہیں کہ اس ادائیگی کے لیے قانونی طریقہ کار کیا ہوگا۔
5 ہزار ڈالر کی تجویز
ٹرمپ کی تجویز کے مطابق ہر امریکی بالغ کو 5 ہزار ڈالر مل سکتے ہیں۔
امریکا میں تقریباً 270 ملین بالغ افراد ہیں۔
اس تعداد کی بنیاد پر منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 1.35 ٹریلین ڈالر بن سکتی ہے۔
تاہم یہ صرف موجودہ بالغ آبادی کی بنیاد پر ایک تخمینہ ہے۔
صدر نے اس منصوبے کی مالی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
ٹرمپ کی انتخابی مہم کا انداز
ٹرمپ نے تقریباً ایک گھنٹہ 45 منٹ تک خطاب کیا۔
انہوں نے اپنی حکومت کے پہلے دو سال کو کامیاب قرار دیا۔
صدر نے کہا کہ انہوں نے صدارت کی تاریخ کے سب سے بڑے دو سال مکمل کیے۔
انہوں نے آئندہ وسط مدتی انتخابات میں اپنی جماعت کی حمایت پر بھی زور دیا۔
ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو ’’بنیاد پرست بائیں بازو‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے ووٹرز سے ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔
ٹرمپ نے کہا، ’’میں آپ سے یہ دکھاوا کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں کہ میں بیلٹ پر ہوں۔‘‘
زندگی کی لاگت اور ایران کی جنگ
رائے عامہ میں زندگی کی بڑھتی لاگت اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ بھی امریکی ووٹرز کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
تاہم کنونشن میں ان دونوں مسائل کو نسبتاً کم توجہ ملی۔
الاباما کے ریاستی نمائندے ایرنی یاربرو نے ایران کی جنگ پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو جنگ کے ممکنہ دورانیے کی وضاحت کرنی چاہیے۔
ان کے مطابق ووٹر جاننا چاہتے ہیں کہ جنگ کے مقاصد کیا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ نہ ختم ہونے والے تنازع سے بچنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے ایران پر حملے کے فیصلے کا دفاع بھی کیا۔
ریپبلکن پارٹی کی انتخابی حکمت عملی
دو روزہ کنونشن ڈلاس میں منعقد ہو رہا ہے۔
ٹرمپ جمعرات کو اختتامی خطاب بھی کریں گے۔
اس سے پہلے نائب صدر جے ڈی وینس خطاب کریں گے۔
کنونشن ریپبلکن پارٹی کی انتخابی حکمت عملی کا اہم حصہ بن گیا ہے۔
پارٹی نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
ٹرمپ نے انتخابی دن تک میدان جنگ کی ریاستوں کے دوروں کا عزم کیا ہے۔
وہ مختلف انتخابی اضلاع کا بھی دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کی مقبولیت ریپبلکنز کے لیے چیلنج
کنونشن میں ٹرمپ کا کردار نمایاں رہا۔
ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے چیئرمین جو گروٹرس نے اسے غیر رسمی طور پر ’’ٹرمپاپالوزا‘‘ کہا۔
یہ نام مشہور میوزک فیسٹیول ’’لولا پالوزا‘‘ سے ماخوذ ہے۔
تاہم ٹرمپ کی مقبولیت ریپبلکن امیدواروں کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔
کچھ امیدوار صدر سے فاصلہ رکھ کر اپنی اپیل وسیع کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب وہ ٹرمپ کے مضبوط حامیوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔
کئی مشکل انتخابی مقابلوں کا سامنا کرنے والے ریپبلکن رہنما کنونشن میں شریک نہیں ہوئے۔
ان میں مشی گن کے نمائندے ٹام بیریٹ بھی شامل ہیں۔
الاسکا کے سینیٹر ڈین سلیوان بھی تقریب سے دور رہے۔
مین کی سینیٹر سوسن کولنز نے بھی شرکت نہیں کی۔
ڈیموکریٹس پر تنقید
کنونشن کے کئی مقررین نے ڈیموکریٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
مقررین نے مختلف ثقافتی اور سیاسی موضوعات پر توجہ دی۔
ان میں ٹرانس جینڈر خواتین کی کھیلوں میں شرکت بھی شامل تھی۔
سرحدی سکیورٹی بھی اہم موضوع کے طور پر سامنے آئی۔
کچھ ریپبلکن مقررین نے ڈیموکریٹس کو ’’سوشلسٹ‘‘ اور ’’کمیونسٹ‘‘ قرار دیا۔
دریں اثنا، ایران کی جنگ اور مہنگائی پر بحث محدود رہی۔
ٹرمپ کی سیاسی مہم اب وسط مدتی انتخابات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔
ریپبلکن پارٹی کے لیے نومبر کا انتخابی معرکہ اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
