Table of Contents
ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک نئے محدود بحری علاقے کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ علاقہ چابہار سے خلیج عمان تک قائم کیا جائے گا۔
اس کی حدود بحیرہ عرب کے بعض حصوں تک بھی پھیلیں گی۔
تاہم محدود بحری علاقے کی درست حدود ابھی جاری نہیں کی گئیں۔
ایرانی حکام بعد میں اس کی جغرافیائی حدود اور نقاط جاری کریں گے۔
جہازوں کو ایران سے رابطہ کرنا ہوگا
پاسداران انقلاب کے ترجمان کے مطابق جہازوں کو علاقے سے گزرنے سے پہلے ایران سے رابطہ کرنا ہوگا۔
ترجمان نے کہا کہ بغیر رابطے کے گزرنے والے جہازوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم ممکنہ پابندیوں کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔
اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا
یہ اعلان ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
خطے میں سمندری آمدورفت کو پہلے ہی مختلف خطرات کا سامنا ہے۔
آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں بحری سرگرمیاں خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
ایران کی جانب سے بحری نگرانی اور پابندیوں سے متعلق اقدامات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے باہر بھی زون کا اعلان
اس سے قبل ایرانی عہدیدار محسن رضائی نے بھی ایک محدود بحری زون کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے باہر یہ زون قائم کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد بحری نقل و حرکت کو منظم کرنا ہے۔
نئے اعلان میں چابہار اور بحیرہ عرب کے بعض حصوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
چابہار کی اہم جغرافیائی حیثیت
چابہار ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں واقع اہم بندرگاہ ہے۔
یہ بندرگاہ خلیج عمان کے ساحل پر قائم ہے۔
چابہار ایران کو بحر ہند تک براہ راست رسائی فراہم کرتی ہے۔
اس کی جغرافیائی حیثیت خطے کی تجارتی اور بحری سرگرمیوں میں اہم ہے۔
نئے بحری زون کا اعلان علاقائی سمندری صورتحال پر مزید اثر ڈال سکتا ہے۔
تاہم اس کے عملی اثرات کا اندازہ حتمی حدود جاری ہونے کے بعد ہوگا۔
