Table of Contents
ویانا: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے ایران کے معاملے پر اہم قدم اٹھا لیا ہے۔
ایجنسی نے تقریباً 20 برس بعد ایران کا معاملہ سلامتی کونسل تک پہنچایا ہے۔
آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے اس حوالے سے قرارداد منظور کی۔
قرارداد میں ایران کے تعاون نہ کرنے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
ایجنسی کے مطابق ایران نے جوہری مواد سے متعلق سوالات کا مکمل جواب نہیں دیا۔
ایران نے بعض غیر اعلانیہ مقامات سے متعلق تحقیقات میں بھی تعاون نہیں کیا۔
یورینیم کی باقیات کا معاملہ
آئی اے ای اے نے ایران میں یورینیم کے ذرات کی نشاندہی کی تھی۔
یہ ذرات ایسے مقامات سے ملے تھے جو ایران نے پہلے ظاہر نہیں کیے تھے۔
ایجنسی ان ذرات اور جوہری سرگرمیوں کے بارے میں وضاحت چاہتی ہے۔
تاہم ایران نے ان معاملات پر مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسے مکمل تصدیق کے لیے رسائی درکار ہے۔
مغربی ممالک کے خدشات
مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام پر مسلسل تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں۔
ان ممالک کو ایران کی سابقہ جوہری سرگرمیوں پر بھی خدشات ہیں۔
مغربی حکام کے مطابق یورینیم کے ذرات اہم شواہد فراہم کرسکتے ہیں۔
ان شواہد سے ایران کی ماضی کی جوہری سرگرمیوں کا اندازہ ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ فوجی سرگرمیوں کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔
ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
مزید پابندیوں کا امکان
آئی اے ای اے کی کارروائی سے ایران پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق معاملہ سلامتی کونسل میں مزید اقدامات کا باعث بن سکتا ہے۔
تاہم فوری طور پر نئی پابندیوں کا نفاذ یقینی نہیں ہے۔
روس اور چین سلامتی کونسل میں ایران کے مؤقف کے قریب ہیں۔
دونوں ممالک کسی بھی نئی کارروائی کی مخالفت کرسکتے ہیں۔
اس صورتحال میں آئندہ سفارتی مذاکرات بھی اہم ہوں گے۔
ایران کا ردعمل
ایران نے آئی اے ای اے کی کارروائی کو مسترد کیا ہے۔
تہران نے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
ایرانی حکام نے موجودہ علاقائی کشیدگی کا بھی حوالہ دیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں جوہری تنصیبات تک رسائی مشکل ہے۔
تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے پر بھی زور دیا ہے۔
