Table of Contents
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو مطلوب منجیت سنگھ بیدی بھارت میں گرفتار ہوگئے ہیں۔
بیدی امریکی شہری اور بھارت میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایف بی آئی کی Most Wanted Fraudsters فہرست میں شامل تھے۔
بھارتی پنجاب پولیس نے انہیں جالندھر سے گرفتار کیا۔ بیدی پر امریکی حکومت کے کم از کم 600,000 ڈالر فراڈ کا الزام ہے۔
ایف بی آئی کے مطابق مبینہ فراڈ مارچ 2024 سے جون 2025 کے درمیان ہوا۔
SNAP فراڈ کا الزام
ایف بی آئی کے مطابق بیدی واشنگٹن کے شہر ٹاکوما میں ایک گروسری اسٹور چلاتے تھے۔
اس اسٹور کا نام Asian Grocery Store بتایا گیا ہے۔
بیدی پر الزام ہے کہ وہ SNAP پروگرام کے صارفین کے EBT کارڈ استعمال کرتے تھے۔
ایف بی آئی کے مطابق وہ صارفین کو کھانے کی اشیا دینے کے بجائے نقد رقم دیتے تھے۔
ادارے کا دعویٰ ہے کہ بیدی اس رقم کا تقریباً نصف اپنے پاس رکھتے تھے۔
ایف بی آئی کے مطابق اس طریقے سے امریکی حکومت کو کم از کم 600,000 ڈالر کا نقصان ہوا۔
یہ الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔
امریکا سے کینیڈا اور پھر بھارت فرار
بیدی پر وائر فراڈ اور SNAP فوائد میں فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ایف بی آئی کے مطابق انہیں ابتدائی طور پر حراست میں لیے بغیر عدالت میں پیش ہونے کی اجازت ملی۔
انہیں پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
انہیں ریاست واشنگٹن میں رہنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔
تاہم ایف بی آئی کے مطابق بیدی پہلے کینیڈا چلے گئے۔ اس کے بعد وہ بھارت فرار ہوگئے۔
21 مئی 2026 کو امریکی عدالت نے ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔
یہ وارنٹ نگرانی کی شرائط کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد جاری ہوا۔
بھارت میں گرفتاری
پنجاب پولیس نے بیدی کو جالندھر میں گرفتار کیا۔
بھارتی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکی حکام کے ساتھ تعاون کے بعد کی گئی۔
ایف بی آئی نے بیدی کی گرفتاری کے لیے 150,000 ڈالر تک انعام مقرر کیا تھا۔
ادارہ انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے امریکا واپس لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایف بی آئی کی فراڈ لسٹ کی پانچویں گرفتاری
بیدی کی گرفتاری ایف بی آئی کی Most Wanted Fraudsters مہم کے تحت پانچویں گرفتاری ہے۔
ایف بی آئی نے یہ خصوصی فہرست جون 2026 میں شروع کی تھی۔
ادارے کے مطابق مہم کا مقصد بڑے مالی جرائم کے مطلوب ملزمان کو تلاش کرنا ہے۔
ایف بی آئی نے کہا کہ بیدی سمیت پانچ ملزمان کو اب گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ان ملزمان پر مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر سے زیادہ کے مبینہ فراڈ کا الزام ہے۔
ایف بی آئی کے مطابق یہ ملزمان مجموعی طور پر تقریباً 4,000 دن قانون سے بچتے رہے۔
ایف بی آئی حکام کا مؤقف
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے گرفتاری کو مہم کی اہم کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ تین ماہ میں پانچ انتہائی مطلوب فراڈ ملزمان کی گرفتاری اہم پیش رفت ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے فراڈ ڈویژن کے حکام نے بھی گرفتاری کو سراہا۔
حکام کے مطابق امریکی ادارے بیرون ملک فرار ہونے والے ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔
