سعودی اخبار Asharq Al-Awsat کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ میں اپنی قیادت میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے محمد عودہ کو گروپ کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سابق عسکری کمانڈر عزالدین الحداد ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے۔ ان کی شہادت کے بعد تنظیم کے اندر قیادت کی نئی صف بندی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق محمد عودہ اس سے قبل حماس کے انٹیلی جنس ونگ سے وابستہ رہے ہیں اور 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے دوران عسکری انٹیلی جنس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق عودہ، تنظیمی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، خصوصاً اس وقت جب حماس کے سابق رہنما محمد دیف اور یحییٰ سنوار کی ہلاکتوں کے بعد تنظیم میں خلا پیدا ہوا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر گزشتہ سال مئی میں بھی انہیں عسکری قیادت سنبھالنے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم انہوں نے اس وقت ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ رپورٹ درست ثابت ہوتی ہے تو یہ غزہ میں جاری کشیدگی اور تنظیمی ڈھانچے میں مسلسل تبدیلیوں کی ایک اور اہم کڑی ہوگی، جو خطے کی صورتحال پر مزید اثر انداز ہو سکتی ہے۔
