Table of Contents
ریکیاوک: آئس لینڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر احتجاج کیا ہے۔
آئس لینڈ کی وزیر خارجہ نے امریکی سفیر بلی لانگ کو طلب کرلیا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک نقشہ شیئر کیا تھا۔
نقشے میں آئس لینڈ سمیت کئی ممالک امریکی پرچم کے نیچے دکھائے گئے تھے۔
پورے خطے پر ’’یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکا‘‘ کا لیبل بھی درج تھا۔
نقشے میں کون سے علاقے شامل تھے؟
رائٹرز کے مطابق نقشے میں امریکا، کینیڈا اور گرین لینڈ شامل تھے۔
آئس لینڈ کو بھی امریکی پرچم کے رنگ میں دکھایا گیا تھا۔
اس کے علاوہ میکسیکو، وسطی امریکا اور کیریبین بھی نقشے میں شامل تھے۔
ٹرمپ نے نقشہ پوسٹ کرتے وقت کوئی وضاحت نہیں دی۔
آئس لینڈ نے امریکی سفیر کو کیا کہا؟
آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگِردور کترین گُنّارسڈوتیر نے بلی لانگ کو طلب کیا۔
آئس لینڈ کی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں واضح مؤقف پیش کیا گیا۔
وزارت نے کہا کہ یہ پوسٹ مکمل طور پر نامناسب تھی۔
بلی لانگ نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر آئس لینڈ میں سفیر کا عہدہ سنبھالا تھا۔
امریکا کی جانب سے فوری ردعمل نہیں آیا
امریکی محکمہ خارجہ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
کوپن ہیگن اور ریکیاوک میں امریکی سفارت خانوں نے بھی جواب نہیں دیا۔
نوک میں امریکی قونصل خانے سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
آئس لینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی مزید تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
گرین لینڈ کے معاملے سے جڑا پس منظر
ٹرمپ اس سے پہلے بھی گرین لینڈ کے بارے میں امریکی مفادات کا اظہار کر چکے ہیں۔
گرین لینڈ ڈنمارک کی خودمختار انتظامی اکائی ہے۔
ٹرمپ کے مؤقف نے واشنگٹن اور کوپن ہیگن کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کی ہے۔
نئے نقشے نے اس معاملے کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
نقشہ قانونی الحاق کا اعلان نہیں
ٹرمپ کی پوسٹ میں آئس لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے سے متعلق کوئی تحریری وضاحت نہیں تھی۔
نقشہ بھی امریکی حکومت کی جانب سے کسی قانونی الحاق کا باضابطہ اعلان نہیں تھا۔
تاہم آئس لینڈ نے اسے نامناسب قرار دیتے ہوئے سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
یہ واقعہ امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان علاقائی معاملات پر جاری حساسیت کو نمایاں کرتا ہے۔
