Table of Contents
یوکرین کے پراسیکیوٹر جنرل رسلان کراوچینکو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ پیش کردیا۔
انہوں نے اپنے فیصلے کی وجہ سیاسی تنازع کو قرار دیا۔
کراوچینکو نے کہا کہ وہ پراسیکیوٹر جنرل کے عہدے کو سیاسی محاذ آرائی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہتے۔
انہوں نے یہ بیان ٹیلی گرام پر جاری کیا۔
استعفیٰ قبول کرنے کی درخواست
رسلان کراوچینکو نے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے یوکرین کی پارلیمنٹ، ویرخونا راڈا، کا بھی شکریہ ادا کیا۔
کراوچینکو نے صدر اور پارلیمنٹ سے استعفیٰ قبول کرنے کی درخواست کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔
ان کے مطابق انہوں نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔
انسداد بدعنوانی اداروں کی کارروائی
یہ پیش رفت انسداد بدعنوانی اداروں کی حالیہ کارروائی کے بعد سامنے آئی۔
یوکرین کی NABU اور SAPO نے گزشتہ ہفتے ایک مجرمانہ تنظیم کا انکشاف کیا تھا۔
اداروں کے مطابق تنظیم مبینہ طور پر دھوکہ دہی والے کال سینٹرز چلا رہی تھی۔
حکام نے کہا تھا کہ اس سرگرمی کا انتظام پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے ایک اہلکار نے کیا۔
کراوچینکو نے اس مبینہ اسکیم میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ الزامات کے بارے میں ان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
حکومتی سطح پر حالیہ تبدیلیاں
کراوچینکو کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین میں اعلیٰ حکام کی سطح پر تبدیلیاں جاری ہیں۔
یوکرین فروری 2022 سے روس کے ساتھ جنگ میں ہے۔
جولائی میں صدر زیلنسکی نے حکومت میں اہم تبدیلی کی تھی۔
انہوں نے یولیا سویریڈینکو کی جگہ سرگی کوریٹسکی کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔
کوریٹسکی اس سے قبل سرکاری توانائی کمپنی نفتوگاز کے سربراہ تھے۔
سویریڈینکو کے دور میں ایک بدعنوانی اسکینڈل بھی سامنے آیا تھا۔
تاہم، ان پر اسکینڈل میں ملوث ہونے کا الزام نہیں تھا۔
ناقدین نے ان پر مؤثر احتسابی کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
وزیر دفاع بھی تبدیل ہوئے
زیلنسکی نے جولائی میں وزیر دفاع میخائیلو فیدوروف کو بھی تبدیل کردیا تھا۔
فیدوروف کو اس عہدے پر تعینات ہوئے تقریباً چھ ماہ ہوئے تھے۔
وہ فوجی اصلاحات کے حامی سمجھے جاتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ان کے بعض سینئر جنرلوں سے اختلافات بھی سامنے آئے تھے۔
یہ اختلافات حکمت عملی اور دفاعی خریداری سے متعلق امور پر تھے۔
کراوچینکو کا استعفیٰ یوکرین کی اعلیٰ قیادت میں جاری تبدیلیوں کی ایک اور کڑی ہے۔
