سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی ریزورٹ برگن اسٹاک میں پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے جب دونوں فریقوں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے اور ایرانی وفد نے احتجاجاً مذاکراتی میز چھوڑ دی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات اس وقت کشیدہ صورتحال اختیار کر گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دھمکی آمیز بیانات پر ایرانی وفد نے سخت ردعمل دیتے ہوئے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ اور دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، جس کے بعد وفد وقتی طور پر مذاکراتی عمل سے الگ ہوگیا۔
ایرانی وفد کے ایک رکن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر لبنان میں جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی نہیں ہوتی تو دیگر تمام معاملات پر بھی پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز سے گفتگو میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو فوری طور پر اپنے اتحادی گروہوں کو لبنان میں کارروائیاں روکنے کا حکم دینا ہوگا، بصورت دیگر امریکا پہلے سے زیادہ سخت ردعمل دے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا اس کا “تباہ کن جواب” دے گا، اور ایران کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
امریکی صدر کے بقول اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کی ریاستی حیثیت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور صورتحال انتہائی سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران، لبنان اور امریکا کے درمیان کشیدگی پہلے ہی بلند سطح پر ہے اور سفارتی کوششیں صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے جاری تھیں۔
سفارتی مبصرین کے مطابق مذاکرات میں تعطل خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ پاکستان اور قطر کی ثالثی کو بھی ایک بڑا سفارتی چیلنج درپیش ہوگا۔
