Table of Contents
کیف: روس نے بدھ کی علی الصبح یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے گرد و نواح پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔
جس کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے، جبکہ متعدد گودام، لاجسٹک مراکز اور تجارتی تنصیبات تباہ ہو گئیں۔
کیف اور مضافاتی علاقوں میں شدید تباہی
یوکرائنی حکام کے مطابق حملے کے دوران شہر اور اس کے اطراف میں متعدد طاقتور دھماکے سنے گئے اور کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
متاثرہ علاقوں میں گودام، لاجسٹک مراکز، رہائشی عمارتیں، نجی مکانات اور درجنوں گاڑیاں نقصان کا شکار ہوئیں۔
کیف کے مضافاتی شہر برووری میں ایک مسافر ریلوے اسٹیشن پر متعدد افراد جان سے گئے، جبکہ امدادی ٹیموں نے ملبے سے لاشیں اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو کارروائیاں جاری رکھیں۔
یوکرین کا فضائی دفاع میزائل روکنے میں ناکام
یوکرائنی فضائیہ کے مطابق روس نے حملے میں 24 بیلسٹک میزائل، چار زرکون کروز میزائل اور 115 ڈرونز استعمال کیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے تقریباً 90 فیصد ڈرونز تباہ کر دیے، تاہم بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی، جس کے باعث جانی اور مالی نقصان میں اضافہ ہوا۔
زیلنسکی کا اتحادی ممالک سے فوری مدد کا مطالبہ
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ اگر ملک کے پاس مزید بیلسٹک میزائل شکن نظام موجود ہوتے تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
انہوں نے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ یوکرین کو فوری طور پر مزید پیٹریاٹ اور دیگر جدید فضائی دفاعی میزائل فراہم کریں۔کیونکہ موجودہ سپلائی گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم ہو چکی ہے۔
روس کا مؤقف
روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ حملوں کا ہدف فوجی نوعیت کے لاجسٹک مراکز تھے جہاں مبینہ طور پر ڈرونز کے پرزے اور دوہرے استعمال کا سامان ذخیرہ کیا جا رہا تھا۔
روس مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ فوجی اہداف کو نشانہ بناتا ہے، جبکہ یوکرین کا کہنا ہے کہ روسی حملوں میں شہری تنصیبات اور عام آبادی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
کاروباری مراکز اور لاجسٹک نیٹ ورک کو نقصان
یوکرین کی معروف ریٹیل کمپنی Epicentr نے بتایا کہ اس کی دو بڑی لاجسٹک سہولیات اور ایک فیکٹری مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ جبکہ فوڈ ریٹیل کمپنی Silpo نے بتایا کہ اس کے کم از کم چھ ملازمین ہلاک ہوئے اور دو ڈسٹری بیوشن سینٹرز کو شدید نقصان پہنچا۔
آن لائن ریٹیل کمپنی Rozetka کی شریک بانی نے بھی حملوں کو اپنی کاروباری زندگی کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی شدید نقصان کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔
پیٹریاٹ میزائلوں کی قلت پر تشویش
یوکرائنی حکام کے مطابق ملک کو کئی ماہ سے امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔جبکہ روس حالیہ ہفتوں میں کیف اور دیگر شہروں پر بیلسٹک میزائل حملوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ میں یوکرین کو مستقبل میں پیٹریاٹ میزائل تیار کرنے کی ممکنہ اجازت سے متعلق بھی بات چیت جاری ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
