Table of Contents
کوپن ہیگن، ڈنمارک اور گرین لینڈ نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مجوزہ سکیورٹی معاہدے سے گرین لینڈ کی خودمختاری متاثر نہیں ہوگی۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے کہ معاہدہ امریکہ کو گرین لینڈ کی سکیورٹی پر ’’مستقل کنٹرول‘‘ دے گا۔
تاہم، معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی عوامی نہیں کی گئی ہیں۔ اس میں امریکی فوجی موجودگی کی حد اور واشنگٹن کے ممکنہ اختیارات سمیت کئی اہم امور واضح نہیں ہیں۔
امریکہ گرین لینڈ میں فوجی موجودگی بڑھائے گا
امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ نے جمعہ کو معاہدے پر اتفاق کا اعلان کیا۔
اس کے تحت امریکہ گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا سکے گا۔ معاہدے کا ایک مقصد مخالف ممالک کو جزیرے میں فوجی اڈے قائم کرنے سے روکنا بھی ہے۔ حساس سرمایہ کاری پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
گرین لینڈ ڈنمارک کی خود مختار اکائی ہے۔ معاہدے کے مطابق اس کی علاقائی سالمیت برقرار رہے گی۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ نے کہا ہے کہ معاہدہ ان کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔
معاہدے پر اگلے ہفتے دستخط متوقع
ڈنمارک اور گرین لینڈ کو امید ہے کہ معاہدہ کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال ختم کرے گا۔
دونوں حکومتوں کے مطابق معاہدے پر اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دستخط متوقع ہیں۔
تاہم، معاہدے کے نفاذ کے لیے ڈنمارک اور گرین لینڈ میں پارلیمانی کارروائی بھی درکار ہوگی۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ اگلا ہفتہ گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکہ کے لیے اچھا ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس میں سکیورٹی مضبوط کرے گا۔
ان کے مطابق اس سے نیٹو اور یورپ کی مشترکہ سکیورٹی کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔
ٹرمپ کا ’’مستقل کنٹرول‘‘ کا دعویٰ
ٹرمپ نے جمعہ کی رات Truth Social پر معاہدے کا اعلان کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو گرین لینڈ کی سکیورٹی اور دیگر ضروری معاملات پر ’’مستقل کنٹرول‘‘ حاصل ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ گرین لینڈ اور امریکہ کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کر سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی امریکی مخالف ملک کو واشنگٹن کی تحریری منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں فوجی اڈہ یا عسکری موجودگی قائم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حساس نوعیت کی سرمایہ کاری پر بھی امریکی منظوری کی شرط ہوگی۔
معاہدے کی مکمل قانونی زبان ابھی جاری نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے ٹرمپ کے بیان میں استعمال ہونے والے ’’مستقل کنٹرول‘‘ کے الفاظ کی قانونی حدود واضح نہیں ہیں۔
گرین لینڈ کی خودمختاری برقرار رکھنے پر زور
گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو تسلیم کرتا ہے۔
انہوں نے گرین لینڈ کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو بھی معاہدے کا حصہ قرار دیا۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔
امریکہ پہلے ہی گرین لینڈ میں Pituffik Space Base چلا رہا ہے۔ نئی پیش رفت سے وہاں امریکی فوجی موجودگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
نیٹو کے اندر کشیدگی
گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کے سابقہ بیانات نے امریکہ اور ڈنمارک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کی تھی۔
اس معاملے نے نیٹو کے اندر بھی خدشات پیدا کیے تھے۔ اب نیٹو حکام نے نئے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
نیٹو کے مطابق معاہدہ آرکٹک خطے میں سکیورٹی، استحکام اور تعاون کو فروغ دینے میں مدد دے سکتا ہے۔
معاہدے کے حتمی اثرات کا اندازہ اس کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
