Table of Contents
اقوام متحدہ: روس اور چین نے ایران پر عائد پابندیوں سے متعلق امریکی حمایت یافتہ قرارداد ویٹو کردی۔
قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی تھی۔
اس کا مقصد ایران پر پابندیوں کی نگرانی کا نظام جاری رکھنا تھا۔
روسی اور چینی ویٹو کے باعث قرارداد منظور نہ ہوسکی۔
سلامتی کونسل میں قرارداد پر ووٹنگ
15 رکنی سلامتی کونسل میں قرارداد کے حق میں 11 ووٹ آئے۔
روس اور چین نے قرارداد کی مخالفت کی۔
پاکستان اور صومالیہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد کا تعلق ایران پر پابندیوں کی آزادانہ نگرانی سے تھا۔
یہ پابندیاں گزشتہ سال دوبارہ عائد کی گئی تھیں۔
مغربی ممالک نے ایران پر 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے تھے۔
ایران نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔
پاکستان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا
اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا مؤقف بیان کیا۔
انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کی وضاحت بھی کی۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری معاملے پر موجودہ صورتحال تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ راستہ تعاون اور پرامن حل سے دور ہوگیا ہے۔
یہی اصول قرارداد 2231 کی منظوری کے وقت رہنما تھے۔
قرارداد 2231 نے ایران جوہری معاہدے کی توثیق کی تھی۔
اسے جوائنٹ کمپری ہنسیو پلان آف ایکشن (JCPOA) بھی کہا جاتا ہے۔
قرارداد نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم کرنے کا شیڈول بھی دیا تھا۔
پاکستان نے سفارت کاری پر زور دیا
عاصم افتخار احمد نے غیر متفقہ راستہ اختیار کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے دور رس نتائج سامنے آئے ہیں۔
پاکستانی سفیر نے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیا۔
ان کے مطابق زیرِ التوا معاملات کا حل مذاکرات سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل سفارتی رابطے کا حامی رہا ہے۔
پاکستان تصادم کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق ایران کا جوہری مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔
انہوں نے متعلقہ فریقین کے حقوق اور ذمہ داریوں کا بھی ذکر کیا۔
روس اور چین کا مؤقف
روسی اور چینی نمائندوں نے موجودہ نگرانی کے نظام پر تحفظات ظاہر کیے۔
ان کے مطابق نظام میں سیاسی مداخلت بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے دباؤ پر مبنی نگرانی کے اقدامات پر بھی اعتراض کیا۔
روسی اور چینی مؤقف کے مطابق ایسے اقدامات مذاکرات کو مشکل بناتے ہیں۔
ان کے مطابق تعمیری سفارت کاری کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے۔
پابندیوں کے نظام پر روس اور چین کی پالیسی
روس اور چین کی پالیسی پابندیوں کے معاملے پر بھی مختلف رہی ہے۔
دونوں ممالک مغربی پابندیوں کے نظام پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
وہ مختلف عالمی فورمز پر اس نظام کے اثرات کو محدود کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
پاکستان کی آئی اے ای اے کے کردار کی حمایت
پاکستان نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے کردار کی حمایت کی۔
پاکستانی سفیر نے آئی اے ای اے کو تکنیکی ادارہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایجنسی کو اپنے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق آئی اے ای اے کو سیاسی مداخلت سے آزاد رہنا چاہیے۔
اسے متعلقہ حفاظتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ذمہ داری حاصل ہے۔
مذاکرات کی بحالی پر زور
پاکستان نے سفارتی رابطے کی تجدید پر زور دیا۔
عاصم افتخار احمد نے زیرِ التوا معاملات کے حل کی ضرورت بیان کی۔
انہوں نے تمام فریقین سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق سفارت کاری کو موقع دینا ضروری ہے۔
اس سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے۔
