جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے، جہاں ضلع نبطیہ اور اس کے گرد و نواح میں رات بھر جاری رہنے والی فضائی اور توپ خانے کی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق جبکہ 33 کے قریب زخمی ہو گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں کا مرکز زیادہ تر نبطیہ ضلع کے قصبے رہے، حالانکہ گزشتہ چند روز کے دوران فوجی کارروائیوں میں نسبتاً کمی دیکھی گئی تھی۔ جمعہ کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے الشرقلیہ، حاروف اور کفرصیر کو نشانہ بنایا، جبکہ توپ خانے کی شدید گولہ باری نبطیہ شہر، کفرجوز، کفرمان، زبدین، نبطیہ الفوقا، حبوش، سجد اور الجبل الرفیع تک پھیل گئی۔
کفرصیر میں ایک فضائی حملے کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ قصبیہ، کفر دجال، کفرتبنیت اور دویر میں بھی حملے کیے گئے۔ دویر میں اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ جبشیت اور عدشیت کے علاقوں کو بھی شدید فضائی اور توپ خانے کی بمباری کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اعلان کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے علی الطاہر کے شمال میں پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی فورس کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیوں کے بعد جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور دیگر اہداف پر کارروائیاں کی گئی ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں قائم تقریباً 10 کلومیٹر گہرے "سکیورٹی زون” سے اس وقت تک دستبردار نہیں ہوگی جب تک اسرائیل کی سلامتی کے تقاضے پورے نہیں ہو جاتے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے حال ہی میں ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، نے نیتن یاہو کو تحمل اور دانش مندی کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا ہے کہ اسرائیل ہر بحران کا حل فوجی کارروائی میں تلاش نہیں کر سکتا۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر زور دیا گیا تھا۔ تاہم ایک ایرانی ذریعے کے مطابق تہران اس وقت تک سوئٹزرلینڈ میں مجوزہ تکنیکی مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کرے گا جب تک معاہدے کی شقوں پر عملی پیش رفت یقینی نہ بنائی جائے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق جنوبی لبنان میں تازہ کشیدگی نہ صرف جنگ بندی کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بھی پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
