اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے حکام، سلیکشن کمیٹی کے ارکان، قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس، تنخواہوں، میچ فیس، الاؤنسز اور دیگر مالی فوائد سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے پاکستان انفارمیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حکم کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے 9 جولائی 2026 کے دو احکامات کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کی۔ عدالت نے درخواست گزار شہریوں کاشف شہزاد خان اور نعیم احمد کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا۔
سماعت کے دوران پی سی بی کی جانب سے وکیل کاشف علی ملک ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ طلب کی گئی معلومات صرف ادارے کے عمومی اخراجات تک محدود نہیں بلکہ انفرادی شخصیات کے مالی معاملات، تنخواہوں، معاہدوں اور دیگر خفیہ تفصیلات بھی اس میں شامل ہیں، جنہیں عوامی سطح پر جاری نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست میں یہ بھی بتایا گیا کہ معلومات میں نومبر 2025 میں فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلی گئی ون ڈے سیریز سے حاصل ہونے والی براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپس، اشتہارات، ٹکٹوں کی فروخت اور دیگر تجارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے پی سی بی کے مالی سال 2023 سے 2025 تک کے بجٹ، اخراجات، سلیکشن کمیٹی کے ارکان اور بورڈ حکام کی تنخواہوں، قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس، میچ فیس، الاؤنسز اور دیگر مالی مراعات کی معلومات بھی طلب کی تھیں۔
پی سی بی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن کے دونوں احکامات قانونی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے، اس لیے انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد پاکستان انفارمیشن کمیشن کے دونوں احکامات معطل کرتے ہوئے مزید کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی۔
