Table of Contents
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر نئی پابندیوں کے بل پر دستخط کردیئے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق بل اب قانون بن گیا ہے۔
اس قانون کا مقصد روس پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنا ہے۔
یہ اقدام یوکرین جنگ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
روس کی توانائی اور دفاعی صنعتیں ہدف
نئے قانون میں روس کی توانائی اور دفاعی صنعتوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔
روس کے ایسے تیل بردار جہاز بھی قانون کی زد میں آئیں گے جو پابندیوں سے بچتے ہیں۔
ان جہازوں کو روس کا ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔
امریکی اقدام کا مقصد روس کی آمدنی کم کرنا ہے۔
امریکا کا کہنا ہے کہ یہ آمدنی یوکرین جنگ کے اخراجات میں استعمال ہوتی ہے۔
روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر ٹیرف
قانون صدر ٹرمپ کو نئے ٹیرف عائد کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔
ان ٹیرف کی شرح 100 فیصد تک ہوسکتی ہے۔
یہ اقدام روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں کو متاثر کرسکتا ہے۔
قانون کے تحت دنیا کے پانچ بڑے خریداروں پر توجہ دی جاسکتی ہے۔
اس میں بعض ممالک کے لیے محدود استثنیٰ بھی موجود ہے۔
قانون کا نیا نام
نئے قانون کا نام Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Act of 2026 رکھا گیا ہے۔
یہ نام آنجہانی امریکی سینیٹر لنڈسے او گراہم کی یاد میں رکھا گیا ہے۔
گراہم روس کے خلاف سخت پابندیوں کے حامی رہے تھے۔
انہوں نے اس قانون سازی کی حمایت کی تھی۔
کانگریس نے بھی بل منظور کیا
امریکی سینیٹ نے یہ قانون سازی اگست میں منظور کی تھی۔
ایوان نمائندگان نے 16 ستمبر کو اسے منظور کیا۔
ایوان میں بل 262 ووٹوں سے منظور ہوا۔ 159 ارکان نے مخالفت کی۔
اس کے بعد بل صدر ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیجا گیا۔
قانون میں روس کے علاوہ ایران سے متعلق پابندیوں میں بھی توسیع کی گئی ہے۔
