Table of Contents
اینڈی برنہم نے برطانیہ کے ایوان زیریں ہاؤس آف کامنز میں رکن پارلیمنٹ کے طور پر حلف اٹھا لیا، جس کے بعد ان کے برطانیہ کے اگلے وزیر اعظم بننے کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حلف برداری کے موقع پر لیبر پارٹی کے ارکان نے اینڈی برنہم کا پرتپاک استقبال کیا اور ایوان میں ان کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے۔ انہوں نے روایتی انداز میں حلف لیا اور ایوان سے گزرتے ہوئے ارکان کے خیر مقدمی نعروں کا جواب متعدد مرتبہ سر جھکا کر دیا۔
بعد ازاں اینڈی برنہم نے ہاؤس آف کامنز کے اسپیکر Lindsay Hoyle سے ملاقات کی، جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر میکرفیلڈ سے رکن پارلیمنٹ بن گئے۔
اس سے قبل نو منتخب ارکان Lara Bird اور Douglas Lumsden نے بھی پارلیمانی رکنیت کا حلف اٹھایا۔
اینڈی برنہم کی سیاسی واپسی کیوں اہم ہے؟
اینڈی برنہم برطانوی سیاست کا ایک نمایاں نام ہیں۔ وہ ماضی میں صحت، ثقافت اور داخلہ جیسے اہم محکموں کے وزیر رہ چکے ہیں اور اس وقت گریٹر مانچسٹر کے میئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اپنی مقبول عوامی شخصیت، مؤثر تقاریر اور اصلاحاتی اقدامات کی وجہ سے وہ نوجوانوں سمیت لیبر پارٹی کے کارکنوں میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔ پارٹی قیادت میں ان کی واپسی کو مستقبل کی حکمت عملی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
میکرفیلڈ سے انتخاب کیسے ممکن ہوا؟
لیبر پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ Josh Simons نے اپنی نشست سے استعفیٰ دیا تاکہ میکرفیلڈ میں ضمنی انتخاب کرایا جا سکے اور اینڈی برنہم کو پارلیمنٹ میں واپس لایا جا سکے۔
18 جون 2026 کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں اینڈی برنہم نے لیبر پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور ریفارم یوکے کے امیدوار کو شکست دیتے ہوئے 54 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔
برطانیہ میں نیا وزیراعظم کیسے منتخب ہوتا ہے؟
برطانیہ میں وزیراعظم کا براہ راست عوامی انتخاب نہیں ہوتا بلکہ حکمران جماعت اپنے قائد کا انتخاب کرتی ہے۔ اگر پارٹی کے پاس ہاؤس آف کامنز میں اکثریت برقرار رہے تو اس جماعت کا منتخب رہنما وزارت عظمیٰ سنبھالتا ہے۔
نئے قائد کے انتخاب کے بعد King Charles III انہیں حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں، جس کے بعد وزیراعظم کابینہ تشکیل دیتا ہے۔
اگر حکمران جماعت پارلیمنٹ میں اکثریت کھو دے تو مخلوط حکومت، اعتماد کے ووٹ یا قبل از وقت عام انتخابات بھی ممکن ہو سکتے ہیں۔
