Table of Contents
آئی سی سی نے خواتین کرکٹرز کے لیے زچگی کے بعد دوبارہ اعلیٰ سطح کی کرکٹ میں واپسی سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں، جن کا مقصد کھلاڑیوں کو محفوظ، منظم اور مؤثر انداز میں کھیل میں واپس لانے کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق خواتین کرکٹ میں بڑھتے ہوئے پیشہ ورانہ مواقع اور کھیل کے فروغ کے باعث اب زیادہ خواتین کھلاڑی اپنے کیریئر کے دوران خاندان شروع کرنے کا انتخاب کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں ایک جامع فریم ورک تیار کیا گیا ہے تاکہ زچگی کے بعد کرکٹ میں واپسی کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ خواتین کھلاڑیوں کی جسمانی اور ذہنی صحت اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور نئی پالیسی خواتین کرکٹ کی ترقی کے لیے جاری اصلاحات کا ایک اہم حصہ ہے۔
6 مراحل پر مشتمل نیا فریم ورک
نئی ہدایات کے تحت رکن ممالک کو اپنی مقامی ضروریات اور قوانین کے مطابق پالیسیاں مرتب کرنے میں رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے چھ مراحل پر مشتمل ایک فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے، جس میں:
- ابتدائی تیاری
- طبی معائنہ
- بحالی
- جسمانی ری کنڈیشننگ
- کھیل میں واپسی
- مسلسل نگرانی
شامل ہیں۔
یہ نظام بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی بحالی سے لے کر مکمل طور پر بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی تک خواتین کھلاڑیوں کی رہنمائی کرے گا۔
ماں بننا کیریئر کا اختتام نہیں
آسٹریلیا کی خواتین ٹیم کی ڈاکٹر اور آئی سی سی میڈیکل ایڈوائزری کمیٹی کی رکن Philippa Inge نے ان ہدایات کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ماں بننا کسی بھی خاتون کرکٹر کے پیشہ ورانہ کیریئر کا اختتام نہیں، بلکہ مناسب سپورٹ اور منصوبہ بندی کے ذریعے وہ دوبارہ اعلیٰ سطح کی کرکٹ میں کامیابی سے واپسی کر سکتی ہیں۔
ویسٹ انڈیز کی آفی فلیچر نے اقدام کو خوش آئند قرار دیا
Afy Fletcher، جو 2021 میں زچگی کے بعد دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئیں، نے نئی پالیسی کو خواتین کرکٹ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خواتین کھلاڑیوں کو یہ اعتماد فراہم کرے گا کہ وہ اپنے خاندان اور پیشہ ورانہ کیریئر دونوں کو ساتھ لے کر چل سکتی ہیں، جبکہ مضبوط خاندانی اور پیشہ ورانہ تعاون کی موجودگی میں واپسی مکمل طور پر ممکن ہے۔
آئی سی سی کے ترجمان کے مطابق خواتین کرکٹ کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کو ان کی زندگی کے ہر مرحلے میں ایسا ماحول فراہم کیا جائے جو ان کے لیے معاون اور محفوظ ہو۔
