بھارت اور چین کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ نئی دہلی میں برکس ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کے اجلاس کے موقع پر بھارتی قومی سلامتی کے مشیر Ajit Doval اور چینی وزیر خارجہ Wang Yi کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے تعلقات کو بتدریج معمول پر لانے کے عمل کا جائزہ لیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ ملاقات تعمیری اور مستقبل پر مرکوز تھی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات بتدریج معمول کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
برکس (BRICS) ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کا اجلاس پیر اور منگل کو نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے، جس کی میزبانی بھارت کر رہا ہے۔ برکس گروپ میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے علاوہ حالیہ برسوں میں شامل ہونے والے دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔
بھارت اور چین کے تعلقات 2020 میں لداخ کے سرحدی علاقے میں ہونے والے تصادم کے بعد شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے، تاہم 2024 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کے نتیجے میں تعلقات میں بتدریج بہتری آنا شروع ہوئی۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے اس ملاقات میں زور دیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا احترام کرنا چاہیے اور حساس معاملات کو مناسب انداز میں حل کرنا چاہیے۔
وانگ یی نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مذاکراتی نظام کو دوبارہ فعال بنانے اور تجارت، مالیات، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا کے شعبوں میں تعاون اور تبادلوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
چینی وزیر خارجہ نے برکس پلیٹ فارم کو عالمی نظام میں کثیر قطبیت (Multipolarity) کے فروغ کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کو اس مقصد کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو خطے میں استحکام اور ایشیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان اعتماد سازی کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
