Table of Contents
ایرانی نائب وزیر خارجہ اور مذاکراتی تکنیکی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں اور اب مذاکرات کا اگلا مرحلہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی نگرانی میں آگے بڑھایا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ اور مذاکراتی تکنیکی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے چار خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں، جو مختلف شعبوں میں تفصیلی مذاکرات اور سفارشات تیار کریں گے۔
4 خصوصی ورکنگ گروپس قائم
کاظم غریب آبادی کے مطابق قائم کیے گئے ورکنگ گروپس میں:
- پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ورکنگ گروپ
- جوہری امور کا ورکنگ گروپ
- تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کا ورکنگ گروپ
- نگرانی اور نفاذ کا ورکنگ گروپ
شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ گروپس اپنے اپنے دائرہ کار میں تفصیلی مذاکرات کریں گے تاکہ مستقبل کے جامع معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔
اعلیٰ سطحی کمیٹی مذاکرات کی نگرانی کرے گی
ایرانی حکام کے مطابق ابتدائی مفاہمت کے تحت آئندہ مرحلے میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی۔
اس کمیٹی میں:
- ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf
- ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi
- امریکی نائب صدر JD Vance
- پاکستان کے وزیراعظم Shehbaz Sharif
- قطر کے وزیراعظم Mohammed bin Abdulrahman Al Thani
شامل ہوں گے۔
مذاکرات کے اہم اہداف
ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، پابندیوں سے متعلق تنازعات کا حل، جوہری پروگرام کے حوالے سے اختلافات کا خاتمہ اور خطے میں استحکام کے لیے ایک جامع اور پائیدار معاہدے تک پہنچنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ورکنگ گروپس کی تشکیل اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق ایک مرحلہ وار اور منظم سفارتی عمل کے ذریعے دیرپا سمجھوتے کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
