امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان "اچھی بات چیت” جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے حل کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، "ہماری ایران کے ساتھ اچھی بات چیت ہو رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ کچھ مثبت پیش رفت کا اچھا امکان ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہم وہی کریں گے جو دو دن پہلے کر رہے تھے۔”
بعد ازاں ریاست مشی گن میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو "رشوت دے کر نہیں بلکہ طاقت سے روکا جا سکتا ہے”، تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اس وقت دونوں فریقوں کے درمیان "بہت دوستانہ مذاکرات” جاری ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کی دو ہفتے تک جاری رہنے والی مہم کو عارضی طور پر معطل کر رکھا ہے، جسے مبصرین واشنگٹن کی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران نے سفارت کاری کا راستہ ترک نہیں کیا اور ثالث ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم انہوں نے ان اطلاعات کو مسترد کیا کہ ایران نے خود مذاکرات کی درخواست کی ہے، اور انہیں "من گھڑت” قرار دیا۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ جب تک امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی برقرار رہے گی، ایران بھی اپنی فوجی کارروائیاں معطل رکھے گا۔
ادھر ایران کی مرکزی فوجی کمان نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں جہاز رانی اور تیل بردار بحری جہازوں کو دھمکیاں دے کر "غیر قانونی بحری ناکہ بندی” نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسی دوران سعودی عرب نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ریاض سمیت تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرون مار گرائے۔ سعودی حکام کے مطابق یہ ڈرون عراق سے ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے داغے گئے تھے، جبکہ ریاض نے اس حملے کا مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان بھی کیا۔
دریں اثنا، یمن کی حوثی تحریک نے دعویٰ کیا کہ اس نے سعودی عرب کی مشرقی اور مغربی تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا، جسے اس نے سعودی کارروائیوں کے جواب میں کی گئی کارروائی قرار دیا۔

