Table of Contents
صنعا: یمن میں حوثی فورسز نے اہم ساحلی شہر المخا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
یہ پیش رفت باب المندب کے قریب حوثیوں کی پوزیشن مضبوط کر سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق یمنی حکومتی فوجی ذرائع نے المخا پر حوثیوں کے قبضے کی تصدیق کی ہے۔
المخا بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہی شہر ہے۔
اس شہر پر کنٹرول حوثیوں کو باب المندب کے مزید قریب لے آیا ہے۔
باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم بحری گزرگاہ ہے۔
باب المندب کے قریب حوثیوں کی پیش قدمی
رپورٹس کے مطابق حوثی فورسز نے مغربی یمن میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہے۔
حوثی جنگجو اہم ریڈ سی جزیروں کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں۔
یمنی حکومتی فورسز اور ان کے اتحادی جنوب کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
ان فورسز کی نقل و حرکت دبّاب کے علاقے تک بتائی گئی ہے۔
دبّاب باب المندب کے قریب واقع اہم مقام ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس علاقے اور جزیرہ پریم پر کنٹرول اہم ہوگا۔
وزیر دفاع طاہر العقیلی کے محاصرے کی اطلاعات
دوسری جانب یمن کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر العقیلی کے بارے میں بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
وہ الضالع گورنریٹ کے دورے پر گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق مسلح جنوبی عناصر نے ان کے قافلے کو گھیر لیا۔
یمنی ذرائع نے وزیر دفاع کے محاصرے کی تصدیق کی ہے۔
ان کے ایک اہم معاون اور بعض محافظوں کو پکڑے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔
تاہم دستیاب معتبر رپورٹس میں وزیر دفاع کے حوثیوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
اس لیے اس دعوے کو فی الحال محتاط انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
یمن میں جنگی صورتحال مزید سنگین
یمن میں حالیہ دنوں لڑائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
2022 کی اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی پہلے ہی کمزور ہو چکی ہے۔
تازہ جھڑپوں نے ملک میں دوبارہ وسیع جنگ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
المخا پر حوثیوں کا قبضہ اس کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
باب المندب کے قریب پیش قدمی سے بحیرہ احمر کی بحری تجارت پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
