Table of Contents
رپورٹ: سفارتی ترجمان انٹرنیشنل ڈیسک
اسماعیلی کمیونٹی کے 50ویں موروثی امام شہزادہ رحیم آغا خان پنجم نے بھارت کا دورہ کیا۔
انہوں نے نئی دہلی میں بھارتی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
شہزادہ رحیم آغا خان پنجم نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔
یہ ملاقات وزیراعظم کے دفتر سیوا تیرتھ میں ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون پر گفتگو کی۔



نریندر مودی سے صحت اور ترقی پر بات چیت
وزیراعظم نریندر مودی نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا۔
انہوں نے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک سے شراکت داری کا ذکر کیا۔
ان کے مطابق صحت اور زراعت پر تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔





دیہی ترقی اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات بھی بات چیت کا حصہ رہے۔
شہزادہ رحیم آغا خان پنجم نے بھارت میں AKDN کی سرگرمیوں پر بات کی۔
انہوں نے تنظیم کے لیے بھارتی حکومت کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے بھارت کی ترقیاتی ترجیحات سے تعاون کی مطابقت پر بھی زور دیا۔
صدر دروپدی مرمو اور نائب صدر سے ملاقات
شہزادہ رحیم آغا خان پنجم نے بھارتی صدر دروپدی مرمو سے بھی ملاقات کی۔
یہ ملاقات راشٹرپتی بھون میں ہوئی۔
انہوں نے بھارتی نائب صدر سی پی رادھا کرشنن سے بھی ملاقات کی۔
نائب صدر نے شہزادہ رحیم آغا خان پنجم کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔
ظہرانے میں اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
جماعت اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے رہنما بھی شریک ہوئے۔
امیت شاہ اور جے شنکر سے بھی ملاقاتیں
شہزادہ رحیم آغا خان پنجم نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ سے بھی بات چیت کی۔
انہوں نے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے بھی ملاقات کی۔
ملاقاتوں میں اسماعیلی امامت اور بھارت کے درمیان تعلقات زیر بحث آئے۔
فریقین نے دیرینہ شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔
اقتصادی بااختیاری کے مواقع پیدا کرنے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
اس تعاون کا دائرہ بھارت سمیت دنیا کے دیگر علاقوں تک ہے۔
شہزادہ رحیم آغا خان پنجم کا اظہار تشکر
شہزادہ رحیم آغا خان پنجم نے بھارت واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔
انہوں نے بھارت کو اسماعیلی امامت کی تاریخ سے جڑا ملک قرار دیا۔
انہوں نے وزیراعظم اور دیگر بھارتی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔
ان کے مطابق حالیہ بات چیت نتیجہ خیز رہی۔
انہوں نے معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے تعاون جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔
بھارت میں اسماعیلی اداروں کا تاریخی کردار
اسماعیلی امامت کے ادارے 19ویں صدی سے بھارت میں موجود ہیں۔
ابتدائی اجتماعی ادارے مولانا آغا علی شاہ کے دور میں قائم ہوئے۔
وقت کے ساتھ یہ ادارے بڑے ترقیاتی اداروں میں تبدیل ہوئے۔
آج ان اداروں کی سرگرمیاں کئی شعبوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
ان میں صحت، تعلیم اور دیہی ترقی شامل ہیں۔
رہائش، موسمیاتی لچک اور ثقافتی ورثہ بھی ان شعبوں میں شامل ہیں۔
ان اداروں کے ذریعے سالانہ لاکھوں افراد مستفید ہوتے ہیں۔
گجرات میں جماعتی رہنماؤں نے استقبال کیا
شہزادہ رحیم آغا خان پنجم نے شام کو دہلی سے گجرات کا سفر کیا۔
گجرات میں جماعتی رہنماؤں کے وفد نے ان کا استقبال کیا۔
عالمی اسماعیلی برادری کا ایک بڑا حصہ گجرات سے تاریخی روابط رکھتا ہے۔
اس برادری کی ثقافتی اور لسانی جڑیں خطے کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔
گجرات اور سندھ سے تاریخی تعلق
11ویں سے 16ویں صدی کے درمیان اسماعیلی امامت نے پیروں کو خطے میں بھیجا۔
یہ مذہبی اساتذہ گجرات اور سندھ میں تعلیمات پیش کرتے تھے۔
بعد میں یہ روایت ستپنتھ کے نام سے معروف ہوئی۔
ان تعلیمات کا بڑا حصہ جینان کی صورت میں محفوظ ہے۔
جینان جنوبی ایشیا کی عقیدتی شاعری کی ایک شکل ہے۔
خطے کے کئی اسماعیلیوں نے خواجہ کا نام بھی اختیار کیا۔
بعد میں گجراتی بولنے والی خواجہ برادری نے تجارتی روابط قائم کیے۔
یہ روابط جنوبی ایشیا سے مشرقی افریقہ اور دیگر علاقوں تک پھیلے۔
