Table of Contents
پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
چیئرمین پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے یہ بات بتائی۔
ان کے مطابق اتھارٹی نے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے لائسنسنگ شروع کر دی ہے۔
پی وی آر اے کو اب تک 70 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
یہ درخواستیں ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کاروبار اور خدمات کے لیے ہیں۔
ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک تیار
بلال بن ثاقب کے مطابق جامع ریگولیٹری فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے۔
اس فریم ورک کے تحت متعلقہ کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے جائیں گے۔
لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیاں ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کر سکیں گی۔
وہ متعلقہ ڈیجیٹل اثاثہ خدمات بھی فراہم کر سکیں گی۔
چیئرمین پی وی آر اے نے لائسنسنگ کے مقصد کی بھی وضاحت کی۔
ان کے مطابق اس اقدام سے شعبے میں شفافیت بڑھے گی۔
اس کے علاوہ کاروباری سرگرمیوں کی نگرانی بھی ممکن ہوگی۔
6 ماہ میں ریگولیٹری فریم ورک مکمل
بلال بن ثاقب نے کہا کہ فریم ورک صرف 6 ماہ میں تیار ہوا۔
اس دوران اتھارٹی نے مختلف اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
ان میں لائسنسنگ، نگرانی اور شفافیت شامل ہیں۔
ریگولیٹری نظام میں ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان اس شعبے کو باقاعدہ نظام کا حصہ بنا رہا ہے۔
اس اقدام کا مقصد مارکیٹ کے لیے واضح قواعد وضع کرنا ہے۔
پی وی آر اے نے بجٹ کا 8 فیصد خرچ کیا
چیئرمین پی وی آر اے نے اتھارٹی کے اخراجات پر بھی بات کی۔
ان کے مطابق اتھارٹی نے رواں سال بجٹ کا صرف 8 فیصد استعمال کیا۔
باقی 92 فیصد بجٹ قومی خزانے میں واپس جمع کرایا گیا۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ اخراجات محدود رکھنے پر توجہ دی گئی۔
ان کے مطابق کم اخراجات کے باوجود ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا گیا۔
اقوام متحدہ میں ڈیجیٹل اثاثوں پر پالیسی پیپر
بلال بن ثاقب نے ایک عالمی اقدام کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ میں پالیسی پیپر پیش کرے گا۔
یہ پالیسی پیپر ڈیجیٹل اثاثوں اور ٹوکنائزیشن سے متعلق ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی پالیسی سازی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ملک اپنے ریگولیٹری تجربات عالمی سطح پر پیش کر رہا ہے۔
اسٹیبل کوائنز سے ترسیلات زر سستی بنانے پر غور
چیئرمین پی وی آر اے نے ترسیلات زر سے متعلق بھی اہم بات بتائی۔
ان کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
مقصد بیرون ملک سے پاکستان رقم بھیجنے کا عمل آسان بنانا ہے۔
اس عمل کو تیز اور کم خرچ بنانے پر بھی توجہ ہے۔
بلال بن ثاقب کے مطابق اسٹیبل کوائنز کے استعمال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے ترسیلات کی لاگت کم ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق موجودہ لاگت تقریباً 6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
اسٹیبل کوائنز کے ریگولیٹڈ استعمال سے یہ لاگت تقریباً ایک فیصد ہو سکتی ہے۔
تاہم اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
