Table of Contents
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے فنانس ایکٹ 2026 کے تحت اہم ٹیکس اصلاحات متعارف کرادی ہیں۔
نئے نظام میں فیس لیس آڈٹ، اسیسمنٹ اور اپیل شامل ہیں۔
الگورتھمک سیٹلمنٹ کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
لائف انشورنس کی بعض ادائیگیوں پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے۔
دوسری جانب تنخواہ دار طبقے کو بعض ٹیکسوں میں ریلیف دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی کارڈز اور جائیداد سے متعلق ٹیکس شرحوں میں بھی تبدیلی ہوئی ہے۔
ای کامرس اور ڈیجیٹل انضمام کے لیے نئے قواعد بھی نافذ کیے گئے ہیں۔
فیس لیس ٹیکس نظام متعارف
ایف بی آر نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرسکے گا۔
اس مرکز میں مخصوص کیسز اور ٹیکس سال دیکھے جائیں گے۔
آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول الگ افسران کریں گے۔
ٹیکس دہندگان سے رابطہ صرف الیکٹرانک ذرائع سے ہوگا۔
سماعت کی ضرورت پر ای ہیئرنگ کا طریقہ اپنایا جائے گا۔
حلفیہ بیان بھی الیکٹرانک سماعت کے ذریعے لیا جاسکے گا۔
متعلقہ افسر کی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق اس نظام سے انسانی مداخلت کم ہوگی۔
الگورتھمک سیٹلمنٹ کا نظام
ٹیکس تنازعات کے لیے الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم بھی بنایا گیا ہے۔
اس نظام کے تحت ٹیکس دہندہ کو سیٹلمنٹ آفر دی جاسکتی ہے۔
ٹیکس دہندہ کو آفر قبول کرنے کے لیے 10 دن ملیں گے۔
قبولیت کے بعد مقررہ رقم جمع کرانا ہوگی۔
نظرثانی شدہ ریٹرن بھی مقررہ طریقے سے جمع ہوگا۔
متعلقہ کارروائی میں شامل مسائل ختم تصور کیے جاسکیں گے۔
تاہم دیگر ٹیکس سال یا مسائل اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔
ہائی کورٹ یا اعلیٰ عدالت میں جانے سے پہلے کیس اسکروٹنی ہوگی۔
اس مقصد کے لیے آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹی بنائی جائے گی۔
سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد ٹیکس
ڈیجیٹل مواد بنانے والوں کے لیے بھی نیا نظام نافذ کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل آمدن پر 5 فیصد ٹیکس ہوگا۔
یہ ٹیکس بینک اور مالیاتی ادارے وصول کریں گے۔
رقم اکاؤنٹ میں آنے کے وقت ٹیکس کاٹا جائے گا۔
یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک آمدن بھی شامل ہے۔
رہائشی شخص کے لیے یہ کم از کم ٹیکس ہوگا۔
مستقل کاروباری ادارہ نہ رکھنے والے غیر ملکی کے لیے یہ حتمی ٹیکس ہوگا۔
لائف انشورنس کی ادائیگیوں پر ٹیکس
لائف انشورنس کی بعض ادائیگیوں پر نیا ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔
ایک سال کے اندر ادائیگی پر شرح 15 فیصد ہوگی۔
ایک سال بعد مگر سات سال سے پہلے ادائیگی پر شرح 10 فیصد ہوگی۔
یہ ٹیکس حتمی ٹیکس تصور ہوگا۔
موت یا معذوری کی صورت میں ادائیگی مستثنیٰ ہوگی۔
سات سال مکمل ہونے کے بعد کی ادائیگی بھی مستثنیٰ ہوگی۔
ٹیکس قابل رقم کا تعین پریمیم منہا کرنے کے بعد ہوگا۔
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف
تنخواہ دار افراد کے لیے نئے ٹیکس سلیب متعارف کرائے گئے ہیں۔
6 لاکھ روپے تک سالانہ قابل ٹیکس آمدن پر ٹیکس صفر ہوگا۔
6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک شرح ایک فیصد ہوگی۔
اس کے بعد آمدن کے مختلف حصوں پر شرح بتدریج بڑھے گی۔
70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر شرح 35 فیصد ہوگی۔
10 ملین روپے سے زائد آمدن پر 9 فیصد سرچارج ختم کردیا گیا ہے۔
دیگر افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز پر 10 فیصد سرچارج برقرار ہے۔
جائیداد پر ایڈوانس ٹیکس میں تبدیلی
غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر شرحیں تبدیل کردی گئی ہیں۔
جائیداد فروخت کرنے پر ایڈوانس ٹیکس 2.75 فیصد ہوگا۔
خریداری پر ایڈوانس ٹیکس 1.25 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
خریداری کے معاملے میں فیئر مارکیٹ ویلیو کو بنیاد بنایا جائے گا۔ (Federal Board of Revenue)
وراثتی جائیداد کے لیے لاگت کا تعین بھی واضح کیا گیا ہے۔
اس کے لیے متعلقہ وقت کی فیئر مارکیٹ ویلیو دیکھی جائے گی۔
بین الاقوامی کارڈز پر ٹیکس کم
بین الاقوامی کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز پر ٹیکس کم کردیا گیا ہے۔
پری پیڈ کارڈز بھی اس تبدیلی میں شامل ہیں۔
ایڈوانس ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کردیا گیا ہے۔
ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات پر ایڈوانس ٹیکس بھی ختم کردیا گیا ہے۔
بینکنگ ڈیٹا کی الگورتھمک جانچ
بینکنگ شعبے کے لیے نیا ڈیٹا رپورٹنگ نظام بنایا گیا ہے۔
بینک اور الیکٹرانک مالیاتی ادارے ڈیٹا سینٹرل ہب کو دیں گے۔
10 کروڑ روپے سے زائد ڈپازٹس یا انخلا والے اکاؤنٹس شامل ہوں گے۔
ڈیٹا میں ڈپازٹس، انخلا اور دیگر مالی تفصیلات شامل ہوں گی۔
اس معلومات کا الگورتھمک بنیاد پر موازنہ کیا جائے گا۔
ٹیکس اور بینکنگ ڈیٹا کو آپس میں ملایا جائے گا۔
اس عمل کے دوران متعلقہ ٹیکس افسر کو ڈیٹا براہ راست نظر نہیں آئے گا۔ (Federal Board of Revenue)
ای کامرس کے لیے نیا ٹیکس نظام
ای کامرس شعبے میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
20 کروڑ روپے سے زائد سالانہ ٹرن اوور پر نیا طریقہ کار ہوگا۔
ایسے کاروبار کے لیے ای کامرس ٹیکس ایڈجسٹ ایبل ہوگا۔
20 کروڑ روپے تک ٹرن اوور والے افراد کو اختیار دیا گیا ہے۔
وہ مقررہ شرائط کے تحت نارمل ٹیکس نظام اختیار کرسکیں گے۔
یہ اختیار ٹیکس سال 2027 اور بعد کے لیے ہوگا۔
ایف بی آر سے ڈیجیٹل انضمام
کاروباری اداروں کو ایف بی آر نظام سے منسلک کرنا ضروری ہوگا۔
کمپیوٹرائزڈ نظام سے انضمام نہ کرنے پر کارروائی ہوسکتی ہے۔
بعض صورتوں میں اخراجات کے 3 فیصد کی کٹوتی ہوگی۔
دوسری جانب ڈیجیٹل نظام میں سرمایہ کاری پر ٹیکس کریڈٹ ملے گا۔
حقیقی سرمایہ کاری کے 10 فیصد تک ٹیکس کریڈٹ دستیاب ہوگا۔
خدمات اور پروفیشنل شعبے پر ٹیکس
بعض خدمات پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح بڑھائی گئی ہے۔
مخصوص خدمات پر شرح 6 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کردی گئی ہے۔
آزاد پیشہ ورانہ خدمات پر شرح 15 فیصد ہوگی۔
اس میں ڈاکٹر، وکیل، معمار اور اکاؤنٹنٹ شامل ہیں۔
سافٹ ویئر انجینئرز اور ڈویلپرز بھی اس زمرے میں شامل ہیں۔
دیگر مخصوص خدمات پر شرح 14 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
قرضی سیکیورٹیز کی فروخت پر کیپیٹل گین ٹیکس بھی بڑھا ہے۔
اس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کردی گئی ہے۔
سپر ٹیکس میں تبدیلی
سپر ٹیکس کے نظام میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
50 کروڑ روپے تک آمدن والے بیشتر افراد کو ریلیف دیا گیا ہے۔
50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر شرح 8 فیصد مقرر ہے۔
بعض مخصوص شعبوں کے لیے الگ شرحیں برقرار ہیں۔
80 فیصد سے زیادہ برآمدی ٹرن اوور رکھنے والے اہل ایکسپورٹرز کو ریلیف دیا گیا ہے۔
ایسے برآمد کنندگان پر سپر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔
برآمد کنندگان کے لیے تبدیلیاں
ایکسپورٹرز کے لیے ایک فیصد ایڈجسٹ ایبل ایڈوانس ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔
برآمدات پر ایڈوانس ٹیکس 1.25 فیصد کم از کم ٹیکس ہوگا۔
آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات کو بھی ریلیف دیا گیا ہے۔
ان شعبوں کے لیے 0.25 فیصد ٹیکس کی شرح برقرار ہے۔
یہ شرح 2029 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
الیکٹرانک وسائل پر جرمانے
ٹیکس سے متعلق الیکٹرانک وسائل کی پابندی بھی سخت کردی گئی ہے۔
وسائل نصب نہ کرنے پر جرمانہ ہوسکتا ہے۔
پہلے ڈیفالٹ پر ایک ملین روپے جرمانہ ہوگا۔
ہر بعد کے ڈیفالٹ پر 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
ایف بی آر نے ڈیجیٹل انضمام سے متعلق دیگر جرمانے بھی بڑھائے ہیں۔ (Federal Board of Revenue)
شپنگ اور غیر مقیم ادارے
غیر مقیم شپنگ کمپنیوں کے لیے بھی نئی ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں۔
مجاز شپنگ ایجنٹ کو ٹیکس ذمہ داریوں کا پابند بنایا گیا ہے۔
ہر جہاز یا سفر کے لیے متعلقہ ریٹرن جمع ہوگا۔
پورٹ کلیئرنس سے پہلے ٹیکس ادائیگی کی تصدیق ہوگی۔
کیپیٹل گین اور مالیاتی ادارے
بینکوں، میوچل فنڈز اور انشورنس اداروں کے لیے نئے طریقہ کار ہیں۔
بعض کیپیٹل گین کا حساب مخصوص نظام کے ذریعے ہوگا۔
غیر مقیم اکاؤنٹس سے ہونے والی بعض سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
ایسے معاملات میں متعلقہ بینک ٹیکس کی کٹوتی کریں گے۔
سپر ٹیکس اور بینکاری شعبہ
بینکنگ کمپنیوں کے لیے بعض سپر ٹیکس شقیں برقرار ہیں۔
15 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر مخصوص شرح لاگو ہوگی۔
کھاد کے شعبے کے لیے بھی مخصوص سپر ٹیکس برقرار ہے۔
دیگر افراد کے لیے 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر شرح 8 فیصد ہے۔
ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ اور سرچارج
ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سے باہر افراد کے لیے سرچارج بڑھایا گیا ہے۔
کچھ شرائط پوری کرکے اس سے استثنا حاصل کیا جاسکتا ہے۔
متعلقہ شخص کو کمشنر کے سامنے حلفیہ یقین دہانی دینا ہوگی۔
اس یقین دہانی کے بعد چھ ماہ کی پابندی ہوگی۔
ٹیکس نظام میں مزید ڈیجیٹل تبدیلیاں
کمپنیوں کے مالیاتی گوشوارے الیکٹرانک شکل میں جمع ہوں گے۔
قابل مطالعہ فائل فارمیٹ استعمال کرنا ہوگا۔
ایف بی آر کو پیچیدہ اکاؤنٹس میں ماہرین مقرر کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
آڈیٹرز کی جگہ بعض معاملات میں آڈٹ مینٹورز اور سیکٹرل ماہرین شامل ہوں گے۔
فیلڈ کمپلائنس کے لیے نیا ڈائریکٹوریٹ جنرل بھی قائم کیا گیا ہے۔
چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس نظام کا دائرہ بڑھایا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق اصلاحات کا مقصد ٹیکس نظام بہتر بنانا ہے۔
بورڈ نے منصفانہ عمل درآمد اور ٹیکس دہندگان کی معاونت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
