Table of Contents
رپورٹ: سفارتی ترجمان انٹرنیشنل ڈیسک
شامی حکام نے سابق صدر بشار الاسد کے دور کے نو پائلٹ گرفتار کرلیے۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد میں تین جنرل بھی شامل ہیں۔
ان پر خانہ جنگی کے دوران شہری علاقوں پر بمباری کا الزام ہے۔
شامی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں کئی قصبوں اور دیہات میں ہوئیں۔
لاذقیہ میں کارروائیاں، نو سابق پائلٹ گرفتار
سرکاری خبر رساں ادارے سانا کے مطابق گرفتاریاں لاذقیہ میں ہوئیں۔
یہ کارروائیاں شام کے مغربی علاقے میں کی گئیں۔
داخلی سکیورٹی فورسز نے نو سابق فوجی پائلٹوں کو حراست میں لیا۔
سانا کے مطابق ان افراد پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جرائم کئی علاقوں میں کیے گئے۔
تین جنرل بھی گرفتار افراد میں شامل
سانا کے مطابق گرفتار افراد میں جنرل مینہل انور صالح شامل ہیں۔
جنرل سمیع ابراہیم محمود بھی گرفتار افراد میں شامل ہیں۔
جنرل غیاث علی ریحی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
شامی حکام نے ان افراد پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔
ان کے مطابق بمباری سے جانی اور مالی نقصان ہوا۔
حکام نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا بھی ذکر کیا ہے۔
خانہ جنگی کے دوران بڑے پیمانے پر تباہی
شام میں خانہ جنگی 13 سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔
اس جنگ میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد کی ہلاکت ہوئی۔
سابق شامی حکومت نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں مسلسل کارروائیاں کیں۔
ان کارروائیوں میں توپ خانے اور فضائی حملوں کا بھی استعمال ہوا۔
دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔
اس کے بعد نئی حکومت نے اقتدار سنبھالا۔
سابق سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائی جاری
اسد حکومت کے خاتمے کے بعد نئی انتظامیہ نے کارروائیاں تیز کیں۔
حکام نے درجنوں سابق سکیورٹی اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے۔
ان افراد پر ماضی کے جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
اپریل میں بعض سابق اہلکاروں کے خلاف مقدمات بھی شروع کیے گئے۔
شامی حکام نے پیر کو ایک سابق جنرل کی گرفتاری کا اعلان بھی کیا تھا۔
اس جنرل پر 2011 کے مظاہروں کے خلاف کارروائی میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔
حکام نے اسے 1982 کے حما واقعے سے بھی جوڑا۔
بشار الاسد اور دیگر اہلکاروں کو سزائے موت
شامی حکام نے اگست میں سابق قیادت کے خلاف بڑا عدالتی فیصلہ سنایا۔
بشار الاسد، مہر الاسد اور پانچ دیگر سکیورٹی اہلکاروں کو سزائے موت سنائی گئی۔
یہ فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں سنایا گیا۔
حکام نے ان افراد کو خانہ جنگی کے دوران مظالم کا ذمہ دار قرار دیا۔
یہ نئی شامی انتظامیہ کے دور میں اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ تھا۔
بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ملک سے فرار ہوگئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق وہ اس وقت روس میں مقیم ہیں۔
