امریکا کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایک اہم قانونی کامیابی دیتے ہوئے ہیٹی اور شام سے تعلق رکھنے والے لاکھوں تارکین وطن کے لیے عارضی تحفظ (Temporary Protected Status – TPS) ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد ہزاروں افراد کو ملک بدری کے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے فیصلہ سناتے ہوئے نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی عدالتوں کے ان احکامات کو کالعدم قرار دیا جن کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کو ہیٹی اور شام کے شہریوں کی ٹی پی ایس حیثیت ختم کرنے سے روکا گیا تھا۔
اس فیصلے سے 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد ہیٹی اور تقریباً 6 ہزار 100 شامی شہری متاثر ہوں گے، جو برسوں سے امریکا میں قانونی تحفظ کے تحت مقیم تھے۔
سپریم کورٹ کے قدامت پسند جج سیموئیل الیٹو نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی قانون کے مطابق ٹی پی ایس سے متعلق انتظامیہ کے فیصلے عدالتی نظرثانی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، اس لیے عدالتیں حکومت کے ایسے فیصلوں میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہیٹی سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاروں کی جانب سے انتظامیہ پر نسلی امتیاز کے الزامات بھی ابتدائی قانونی معیار پر پورا نہیں اترتے۔
سپریم کورٹ نے اسی روز امیگریشن سے متعلق ایک اور مقدمے میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کے مؤقف کی حمایت کی، جسے صدر کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کے لیے ایک اور اہم قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ اب بھی شہریوں کو ہیٹی اور شام کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دیتا ہے، جہاں تشدد، دہشت گردی، جرائم، اغوا اور دیگر سکیورٹی خطرات موجود ہیں۔
ٹی پی ایس پروگرام ایسے غیر ملکی شہریوں کو امریکا میں عارضی رہائش اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے جن کے آبائی ممالک جنگ، قدرتی آفات یا دیگر سنگین بحرانوں کا شکار ہوں۔ امریکا نے 2010 میں ہیٹی میں تباہ کن زلزلے کے بعد وہاں کے شہریوں کو یہ تحفظ دیا تھا، جبکہ شام میں 2012 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد شامی شہریوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا گیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں دیگر ممالک کے شہریوں کی ٹی پی ایس حیثیت ختم کرنے کے حکومتی فیصلوں پر عدالتی چیلنجز کو بھی محدود کر سکتا ہے، جس سے امریکا کی امیگریشن پالیسی پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
