ڈھاکہ: بھارت نے تقریباً دو سال کے تعطل کے بعد بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں کے اجرا کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈھاکہ میں بھارت کے ہائی کمشنر Dinesh Trivedi نے صحافیوں کو بتایا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزا درخواستوں کی وصولی اور پراسیسنگ کا عمل 28 جون سے دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو امید ہے کہ اس فیصلے سے دونوں خودمختار ممالک کے درمیان عوامی روابط، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کو مزید فروغ ملے گا۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب اگست 2024 میں سابق وزیراعظم Sheikh Hasina کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد شیخ حسینہ بھارت منتقل ہو گئیں، جبکہ بنگلہ دیشی حکام نے متعدد بار ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ بنگلہ دیش کی عدالت کی جانب سے انہیں ایک مقدمے میں غیر حاضری میں سزائے موت بھی سنائی جا چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ انتخابات کے بعد وزیراعظم Tarique Rahman کی حکومت کے قیام سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط میں بہتری آنا شروع ہوئی۔ نئی حکومت نے عبوری انتظامیہ سے اقتدار سنبھالا، جو شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد ملک کا نظم و نسق چلا رہی تھی۔
بھارت نے اس سے قبل بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے طبی مقاصد کے ویزوں کا اجرا بحال کیا تھا، جبکہ اب سیاحتی ویزوں کی بحالی کو تعلقات کی بحالی کے سلسلے کی ایک اور اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تقریباً 4,096 کلومیٹر طویل زمینی سرحد موجود ہے، جبکہ دونوں ممالک تاریخی، ثقافتی اور تجارتی روابط رکھتے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں سرحدی معاملات اور مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی جیسے مسائل دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ کا باعث بھی بنتے رہے ہیں۔
